.

خلیجی ریاستیں خیراتی ادارے نہیں!

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے مملکت کے تحفظ کے لیے جو بھی اقدامات کیے ہیں،وہ قانونی تھے۔یمن میں قانونی حاکمیت کی بحالی کے لیے کارروائی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے کے بعد کی گئی تھی۔سعودی مملکت ریاستوں کی حمایت کرتی ہے،ملیشیاؤں کی نہیں۔اس نے عرب ممالک کی ترقی کی بنیاد رکھی ہے اور انھیں تباہ نہیں کیا۔

لبنانی وزیر داخلہ نہاد مشنوق اپنی وزارت کا نظم چلانے کی صلاحیت کی بنا پر جانے جاتے ہیں اور ان کے حریف مسیحی لیڈر میشیل عون اور سلیمان فرنجیحہ بھی ان کی اس صلاحیت کے معترف ہیں۔مشنوق نے حال ہی میں حزب اللہ کی آٹھ ممالک میں مداخلت کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے یمن کے حوثیوں کو تربیت دینے اور ان کی حمایت کرنے کے ثبوت موجود ہیں۔یہ ملیشیا کویت میں الابدالی سیل میں بھی ملوّث تھی۔یہ سرگرمیاں ان کارروائیوں کے علاوہ ہیں جو یہ جماعت گذشتہ چار سال میں بحرین میں انجام دے رہی ہے۔خلیجی ممالک کے سکیورٹی ادارے حزب اللہ کی ان سرگرمیوں کو منظرعام پر لاچکے ہیں اور اب لبنانی وزیرداخلہ نے اس سے بھی بڑھ کر اعتراف کیا ہے۔

حال ہی میں منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو سے حزب اللہ کی یمن میں مداخلت اور حوثی ملیشیا کی حمایت کا ثبوت فراہم ہوا ہے۔اس کے جنگجو حوثیوں کے شانہ بشانہ یمنی حکومت کے تحت فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔سعودی وزارتِ دفاع کے مشیر بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے اگلے روز بتایا ہے کہ بعض ایرانی اور حزب اللہ کے ارکان یمن میں حوثیوں کے ساتھ مل کر لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔

خوش قسمتی سے لبنانی عوام حال ہی میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کی جانب سے لبنان کے خلاف کیے گئے اقدامات کے مضمرات کو سمجھتے ہیں۔سعودی عرب نے لبنانی فوج کے لیے اعلان کردہ تین ارب ڈالرز کی امداد معطل کردی ہے۔لبنان میں ایک اندرونی بحران جاری ہے اور اب لبنانی معاشرے کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا حزب اللہ ایک داخلی سیاسی جماعت ہے یا ایک ملیشیا ہے جو برادر ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو انجام دے رہی ہے۔

حزب اللہ کی سرگرمی کے مسئلے کو مؤخر کرنے سے اس گروپ کی ضرررسانی کی صلاحیت کی پہنچ بھی بڑھ چکی ہے۔اب گیند لبنانی سیاست دانوں کی کورٹ میں ہے۔ان کے لیے حزب اللہ کی دہشت گردی کے ایشو کو حل کرنا آسان نہیں ہوگا۔تاہم خلیجی ممالک بھی خیراتی ادارے نہیں ہیں جو خاموشی اور ضبط وتحمل سے حزب اللہ کی ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر سرگرمیوں کو ملاحظہ کرتے رہیں گے جبکہ اس تنظیم کی لبنانی کابینہ میں نمائندگی موجود ہے اور اس نے خلیج بھر میں اپنی تخریبی کارروائیوں اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

لبنان کو اب ایک سخت فیصلہ کرنا ہے۔وہ ایک سول سیاسی راہ پر چل سکتا ہے یا پھر ایک ایسی ریاست میں تبدیل ہوسکتا ہے جو ہلاکت آفریں ملیشیاؤں کی آماج گاہ ہو اور جس کا سیاسی ڈھانچہ اور ناک و نقشہ بالکل کمزور ہو۔

-------------------------------------------
(ترکی الدخیل ،العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.