.

اور ایوارڈ ہاشمی رفسنجانی کے نام!

کامیلا انتخابی فرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آکادمی ایوارڈز یا آسکرز کی اٹھاسویں سالانہ تقریب جب 28 فروری کو جاری تھی اور انعام یافتگان کے نام پکارے جارہے تھے تو عین اس وقت ایران میں بھی ایک اور دوڑ جاری تھی اور اس کے اہم عالمی مضمرات تھے۔جب آسکرز کے پیش کار اکادمی ایوارڈز کے انعام یافتگان کے نام پکار رہے تھے تو ایران میں پارلیمان اور مجلس خبرگان کے انتخابات میں فتح یاب امیدواروں کے نام بھی سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔

ایران میں منعقدہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والا کوئی بھی امیدوار آسکر ایوارڈ پانے والوں کی طرح گلیمرس تو نہیں تھا۔یہ اور بات ہے کہ وہ غالباً ہالی ووڈ کے اسٹارز کے ساتھ اداکاری کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔بہت سے شعبوں میں سب سے بڑا انعام سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کو جاتا ہے۔

رفسنجانی ان انتخابات میں اپنی حمایت میں اضافے کے لیے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے ہیں،معاون کرداروں کے لیے انھوں نے کاسٹ کا بڑی دانش مندی سے انتخاب کیا تھا۔وہی سب مسودوں کے مرکزی کردار تھے اور ان سب پر ان کی انگشت کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں۔تاہم ان کے حریف بھی کوئی آسان ہدف نہیں تھے اور ان کی ناکامی کو درحقیقت تمام اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک نمایاں ناکامی گردانا جارہا ہے۔

انتخابات میں کامیابی کی نئی ہوا سے نظام میں پُرامن انداز میں اصلاحات کے لیے امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔خاص طور پر تہران میں ''امید کی فہرست'' کی حیران کن کامیابی نے ہیئت حاکمہ کو ایک واضح پیغام دے دیا ہے۔

خفیہ پیغام

رائے دہندگان کی جانب سے پارلیمان کے لیے پیغام یہ ہے کہ اقتصادی محاذ پر بہتری اور استحکام کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے۔ووٹروں نے چند ایک سرکردہ علماء کو مجلس خبرگان سے نکال باہر کیا ہے اور انھوں نے بڑی تبدیلیوں اور اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانیوں کو مبارک باد دی ہے اور اسلامی نظام سے مطابقت کے حامل عوامی ردعمل کو سراہا ہے۔ان کا یہ پیغام ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بھی پوسٹ کیا گیا تھا۔

کون جیتا یا کون ہارا؟اس سے قطع نظر رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد نے اعتدال اور اثباتیت پسند امیدواروں کے حق میں ووٹ دیا ہے اور یہ علی خامنہ ای کے لیے اہمیت کا حامل تھا۔ہاشمی اور حسن روحانی کے حامیوں کی تاریخی کامیابی دراصل اصلاح پسندوں کی فتح نہیں ہے۔اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ سپریم لیڈر ٹرن آؤٹ کی شرح کو اپنے نظام کے قانونی جواز کی شہادت کے طور پر کیوں دیکھ رہے ہیں۔

شورائے نگہبان نے ان انتخابات کے لیے ٹھیک ٹھیک تبدیلیاں کی تھیں اور اس کا بنیادی مطلب یہ تھا کہ کچھ بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے۔شاید یہ ہاشمی رفسنجانی ہی ہیں جن کا تشخص سب سے نمایاں ہوا ہے اور اس امر کو بھی ملحوظ رکھا جائے کہ ان کی حیثیت اور ساکھ کو سپریم لیڈر کی جانب سے چیلنج کیا گیا تھا۔اس تاریخی کامیابی اور مجلس خبرگان میں نشست کے بعد وہ مزید بارسوخ ہوسکتے ہیں۔

ہاشمی رفسنجانی کے لیے حمایت کو اس امر کی شہادت کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ انھیں آیندہ سپریم لیڈر دیکھنے کے خواہاں ہیں یا قیادت کونسل خامنہ ای کے مقابلے میں زیادہ اعتدال پسند طریقے سے کام کرے۔

تاہم اس کا تعیّن اس بات سے ہوگا کہ پانچویں مجلس خبرگان رفسنجانی کی خواہش کے مطابق کہاں تک اصلاحات کرسکتی ہے۔اس کا اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب سے بھی تعلق بنے گا۔

جہاں تک دسویں پارلیمان کا تعلق ہے تو اس وقت تمام نظریں آزاد حیثیت میں جیتنے والے نومنتخب ارکان پر مرکوز ہیں۔انھوں نے تیس فی صد نشستیں جیتی ہیں۔یہ آزاد ارکان جس فریق کا بھی ساتھ دینے کا فیصلہ کریں گے تو اسی سے پارلیمان کی سیاسی پوزیشن کا ناک ونقشہ بنے گا۔

تہران میں اعتدال پسندوں کی اس کامیابی کے باوجود سخت گیروں کو معمولی سی برتری حاصل ہے اور ان کا ہاتھ اوپر ہی ہے۔اسی وجہ سے نومنتخب آزاد ارکان کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے اور ان کی پوزیشن سے ہی دونوں کے مابین فرق کا پتا چلے گا۔زیادہ تر تجزیہ کار یہ توقع کررہے ہیں کہ وہ روحانی حکومت کی حمایت کریں گے۔

امتحان کا وقت

بہت سے حوالوں سے حسن روحانی کی صدارت کے آیندہ دو سال ہاشمی رفسنجانی کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ روحانی سیاسی لیڈروں کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی کے بغیر اپنی مدت صدارت کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور وہ عوام کو بھی مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔

انتخابات میں ہارنے والے قدامت پسندوں اور ان کے حامیوں کے ساتھ جھڑپیں روحانی کے لیے خطرناک ثابت ہوں گی کیونکہ اول الذکر گروہ اب صدر کے خلاف سازشی نظریوں پر توجہ مرکوز کرے گا۔انتخابات کا بہ طریق احسن انعقاد اور سپریم لیڈر کی جانب سے ان کی توثیق روحانی کی کامیابی ہی کا مُنھ بولتا ثبوت ہے۔

حکومت کی موجودہ پالیسیوں کے تسلسل اور روحانی نے جس انداز میں مغرب کے ساتھ نیوکلئیر ایشو پر مذاکرات کیے اور اس کو حل کیا ہے تو آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس سب کی منظوری دی تھی۔سپریم لیڈر صدر پر اعتماد کرتے ہیں اور عوام کو حسن روحانی پر اعتماد ہے۔اس طرح کے ان دیکھے تعلقات کو انقلاب کے بعد اسلامی جمہوریہ کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔

سنہ 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں جھڑپوں کے بعد ہاشمی رفسنجانی کی ان تھک کوششوں کے نتیجے میں عوام اور نظام کے درمیان تعلقات میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔اس لیے اسلامی جمہوریہ کو بچانے کا ایوارڈ ہمیشہ کی طرح ان ہی کو جاتا ہے۔
___________________

(کامیلا انتخابی فرد ایرانی صحافیہ اور تبصرہ نگار ہیں۔وہ ایران میں انقلاب کے زمانے میں پلی بڑھی تھیں اور اصلاح پسندوں کے نمایاں اخبارات میں لکھتی ہیں۔وہ نیویارک اور دبئی میں رہتی ہیں۔ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:@CameliaFard
اس تحریر میں انھوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے،ان سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.