.

حسن نصراللہ : تقدس مآب نہیں مگر مقدس!

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہت سے لبنانی سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاکوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔دروز لیڈر ولید جنبلاط نے اپنا مضحکہ اڑانے والوں کو اپنی قیام گاہ پر دعوت میں مدعو کیا تھا۔لبنانی طنز کی اس قسم کے عادی ہیں لیکن حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ نہیں۔

کوئی ایک عشرہ قبل جب ان کا نقلی خاکہ تیار کیا گیا تو یہ خاکہ بنانے والی ٹیم ان کے حامیوں سے چھپتی پھرتی تھی اور اس کو تحفظ مہیا کرنا پڑا تھا۔

جب ایک انٹرویو کے دوران حسن نصراللہ سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے خاکے سے نالاں کیوں ہوتے ہیں تو انھوں نے پہلے تو یہ غلط طور کہا کہ ''یہ ان کے حامی ہیں جو ناراض ہوتے ہیں'' اور پھر اگلے ہی لمحے یوں گویا ہوئے کہ ''وہ توہین آمیز خاکوں کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں''۔

تضادات

ہفتے کے روز سعودی اداکار خالد الفراج نے ایک ٹی وی خاکے میں حسن نصراللہ کا روپ دھارا اور ان کے متضاد بیانات کا ٹھٹھا اڑایا۔اس خاکے کے فوری بعد بیروت کے جنوبی علاقے میں مشتعل مظاہرین باہر نکل آئے مگر مستقبل تحریک کے رہ نما سعد حریری نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ضبط وتحمل سے کام لیں۔

سب سے حیران کن امر یہ ہے کہ حزب اللہ لوگوں کو اخلاق اور اخلاقیات ،عوام کو نقصان نہ پہنچانے اور مزارات کے احترام کا درس دیتی ہے جبکہ حسن نصراللہ کی تقریریں توہین آمیز اور اشتعال انگیز زبان سے بھرپور ہوتی ہیں اور کم سے کم بچوں کو تو ان کو سننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

ایک ٹی وی اسٹیشن نے بیروت کے مختلف علاقوں میں ایک سروے کیا اور اس میں یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ ''کیا آپ اس بات کو قبول کریں گے کہ حسن نصراللہ کی خاکہ نگاری کی جائے''۔

جب کوئی شخص اس کا جواب نفی میں دیتا تو پیش کار اس سے اگلا سوال یہ پوچھتا کہ کیا وہ مقدس گائے ہیں؟اس پر وہ شخص جواب دیتا ہے:''نہیں وہ مقدس تو نہیں لیکن یہ تصور ہی ناممکن ہے کہ ان کی خاکہ نگاری کی جائے''۔یعنی چرواہے کے فارمولے کے مطابق:'' حسن نصراللہ تقدس مآب تو نہیں لیکن وہ مقدس ہیں''۔
________________________
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.