سعودی ترقیاتی ماڈل کی ایران میں مقبولیت

سعودی عرب آنے والے یا وہاں کے باسی ملک میں ہونے والی اہم تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں

ڈاکٹر محمد السلمی
ڈاکٹر محمد السلمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

موجودہ وقت میں مشرق وسطیٰ متوازی مسابقت کے ایک نئے دور سے گزر رہا ہے۔ یہ مسابقت عزم اور کشش پر مبنی ہے یا وہ چیز جسے اسے گورننس اور ترقی کا پرکشش ماڈل کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کسی ملک کے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری پر مرکوز ہے۔

یہ وہ ماڈل ہے جسے سعودی عرب نے آٹھ سال قبل اپنایا تھا۔

گذشتہ تین سالوں کے دوران اس گورننس ماڈل کی خصوصیات زیادہ واضح، جامع اور پختہ ہو گئی ہیں جس کا سعودی عرب میں جدید کاری، کشادگی، ترقی، آمدنی میں تنوع اور سماجی بہبود اور معیار زندگی میں بہتری کے ذریعے مظاہرہ کیا گیا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں بہت سے بڑے پیمانے پر اصلاحات، ترقی اور سرمایہ کاری کے منصوبے ابھی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔ پہلا مرحلہ اس وقت مکمل ہونا ہے جب وژن 2030 کے اہداف حاصل ہو جائیں گے۔ تاہم مملکت میں آنے والے یا رہنے والے تمام لوگ پہلے ہی بیشتر شہروں میں نمایاں تبدیلیوں اور اس کی وزارتوں اور اداروں کے انتظام میں متعارف کرائی گئی نئی ٹیکنیکس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

یہ خواتین کو بااختیار بنانے، کھیلوں اور سیاحت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور مملکت کی مجموعی داخلی پیداوار میں کرائے یا ’تیسرے‘ شعبے کے تعاون کو بڑھانے کی کوششوں کے علاوہ ہے۔

مملکت میں ہونے والی ان تبدیلیوں کو پورے خطے کے نوجوان قریب سے دیکھ رہے ہیں خاص طور پر ان ممالک میں جن کے ساتھ سعودی عرب کے غیر مثالی یا ’کشیدہ‘ تعلقات ہیں، جیسا کہ ایران۔

ان تبدیلیوں نے، جسے ہم سعودی ماڈل کہہ سکتے ہیں، بہت سے نوجوان ایرانیوں کو متاثر کیا ہے جو پڑوسی ممالک، خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

سعودی ماڈل تیزی سے وہ معیار بن کر ابھر رہا ہے جس کا یکے بعد دیگرے ایرانی حکومتوں کی کارکردگی سے موازنہ کیا جاتا ہے۔

یہ صورت حال سعودی عرب کے بارے میں منفی، فرسودہ اور دقیانوسی تصورات کے مسلسل فروغ کے باوجود سامنے آئی ہے جس کو قومی یا تاریخی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ سعودی عرب نے وہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کے ایرانی قیادت نے صرف اپنی عوام سے وعدے کیے تھے۔ تہران کی یکے بعد دیگرے حکومتوں نے ایرانی عوام سے بے شمار اور بڑے بڑے وعدے کیے لیکن انہیں کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا۔ مزید یہ کہ جب بھی بجٹ کا وقت آتا ہے تو ہر ایرانی حکومت مزید وعدے کرتی ہے۔

انتخابی وعدوں کی طرح یہ وعدے بھی نہ صرف ادھورے رہے بلکہ حکومت کے بعد کے اقدامات سے متصادم بھی ہیں جس کے منفی نتائج اور ملک میں پہلے سے ہی سنگین حالات زندگی ہر سطح پر مزید بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں۔

یہاں میں اس مسئلے پر ایرانی شخصیات کے کچھ تبصروں کا حوالہ دوں گا۔ ایسی ہی ایک ممتاز شخصیت علی قنبری ہیں جو سابق رکن پارلیمان، وزارت زراعت کے نائب وزیر اور ’تربیت مدارس‘ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ایران جعلی ترقی کے جال میں پھنس گیا ہے کیوں کہ حقیقی ترقی کا مطلب بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، ملک میں فلاح و بہبود اور اقتصادی اور ثقافتی حالات کو بہتر بنانا ہے۔‘

علی قنبری نے مزید کہا: ’گذشتہ نصف درجن پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں نے ایسے نتائج حاصل نہیں کیے ہیں۔ مزید برآں محض اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اقتصادی ترقی محدود رہی جس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حقیقی ترقی حاصل کی گئی ہے۔ ہم پڑوسی ممالک کے مقابلے میں 15 سال پیچھے ہیں۔ بہترین صورت حال میں بھی ہم ان سے 10 سال پیچھے ہیں۔ حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو ہم اپنے پڑوسی ممالک جیسے ترکی، سعودی عرب اور دیگر سے 15 سال پیچھے ہیں۔‘

ایک اور سرکردہ ایرانی شخصیت اور اقتصادی ماہر واحد شقاقی شہری نے کہا: ’سعودی عرب علم کے تیسرے مرحلے سے گزر رہا ہے جو علم پر مبنی معیشت میں بڑی تبدیلی ہے اور وہ اپنے مالیاتی نظام کو تبدیل کر رہا ہے۔ یہ اب دولت پیدا کرنے والے عناصر جیسے ورچوئل، انٹیلی جنس اور سبز معیشتوں کے ساتھ ساتھ قابل تجدید توانائیوں سے بھی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ دریں اثنا ایران ابھی بھی علم کی دوسرے مرحلے میں ہے اور ہم دوسری لہر کی بنیاد پر صنعت کے حالات کو بہتر بنانے پر اصرار کرتے ہیں وہ بھی ایک ایسے وقت جب ہمارے حریف تیسری لہر میں داخل ہو چکے ہیں اور مستقبل میں دولت پیدا کرنے کے نظام کے لیے منصوبے تیار کیے ہیں۔‘

عمل اور محض الفاظ کے فرق سے پروفیسر ماجد مرادی نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’برسوں سے ہم سعودی عرب کا امریکہ کے ماتحت ہونے پر مذاق اڑاتے ہوئے ’مرگ بر امریکہ‘ کے نعرے لگا رہے ہیں لیکن جب ہم اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لیں گے تو ہم دیکھیں گے کہ سعودی عرب کے بجائے ایران امریکہ کا ماتحت ہو گیا ہے (ہم جنوبی کوریا میں اپنے منجمد اثاثوں کو بحال کرانے کے لیے امریکہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہم انہیں شہری مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں) اس کے برعکس سعودی عرب امریکہ کی مزاحمت کر رہا ہے اور چین کو مشرق وسطیٰ میں قدم جمانے کی دعوت دے رہا ہے. ''

معیشت کے تناظر میں ماجد مرادی نے کہا: ’ایران کے صدر نے پچھلے دو سالوں میں اعلان کیا ہے کہ ہم اپنے شہریوں کی زندگیوں کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے مشروط نہیں کریں گے لیکن ہم عملی طور پر دیکھتے ہیں کہ جوہری معاہدے کے بارے میں سامنے آنے والی ہر خبر کے ساتھ ڈالر کی قدر بڑھتی اور گھٹتی ہے۔ دوسری طرف سعودی ریال مستحکم کھڑا ہے۔ سعودی ریال کی حیثیت کبھی بھی متاثر نہیں ہوئی چاہے پہاڑ اس کے مقابل آ جائیں۔

ماجد مرادی نے مزید کہا: ’مضبوط معیشت ہی وہ اہم عنصر ہے جس نے سعودی عرب کو سیاسی آزادی سے ہمکنار کیا، نہ کہ عالمی متکبر قوتوں کے خلاف نعروں سے اس کا حصول ممکن ہے جیسا کہ امریکہ کے خلاف ایرانی حکومت کے نعرے۔ جس چیز نے ہماری آزادی کو عملی طور پر نقصان پہنچایا ہے وہ کمزور معیشت ہے۔ ہمارے ریال اور سعودی ریال میں یہی فرق ہے۔ ہمارا ریال کمزور پالیسیوں کی وجہ سے کمزور ہے اور دوسری طرف ان کی پالیسیاں مضبوط ریال کا ثمر ہیں۔‘

مستقبل کی منصوبہ بندی پر ایرانی کالم نگار احسان بداغی نے لکھا: ’سعودی عرب 2030 تک اپنی آبادی کو 50 فیصد تک بڑھانے کے لیے 500 ارب ڈالر کے میگاسٹی ’نوم‘ جیسے بڑے منصوبوں کے ذریعے خود کو تیار کر رہا ہے تاہم اس کے باوجود بہت سے ایرانی قانون ساز سعودی حکمرانوں کو ’رجعت پسند اور جاہل‘ قرار دیتے ہیں۔‘

ایران میں ایک سوشل میڈیا صارف کے مطابق کیسپین انٹرنیشنل ایگزیبیشن کو میوزک چلائے جانے اور نمائش میں آنے والی خواتین کی جانب سے حجاب ہٹانے کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا: ’جب کہ سعودی عرب اپنے ملک کی تشہیر کے لیے فٹ بال کے کھلاڑیوں سے معاہدے کر رہا ہے جب کہ یہاں کچھ خواتین کے بالوں کے نظر آنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی نمائش کو بند کیا جا سکے۔‘

ایرانی ماہر اقتصادیات سیامک قاسمی کے بقول: ’سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے خلیجی ریاستوں کو یورپی یونین کی طرح ایک بلاک میں تبدیل کرنے کا خیال تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ میرے خیال میں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہ یونین مشترکہ کرنسی اپنائے گی۔ شمالی اور جنوبی خلیج عرب کے درمیان اقتصادی خلیج مزید بڑھے گی۔ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق ایران عالمی سطح پر 101ویں نمبر پر ہے جبکہ سعودی عرب 30ویں نمبر پر ہے۔‘

ہر لحاظ سے یہ بات واضح ہے کہ سعودی عرب فروغ پا رہا ہے، ترقی کی منازل طے رہا ہے اور پھل پھول رہا ہے۔ حریف ریاستوں کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے اس حوالے سے مملکت جیسی طرز حکمرانی اور ترقی کے ماڈل کو اپنانا بہتر ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تحریر کے مصنف ڈاکٹر محمد السلمی بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ فار ایرانی سٹڈیز کے صدر ہیں۔ ان کا مندرجہ بالا کالم معاصر ویب گاہ انڈیپنڈنٹ اردو کے شکریہ کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں