null
ٹی وی پر چہرہ نمائی نے مبلغین کو مفتی بنادیاسعودی مفتیٰ اعظم
میڈیا کی وجہ سے فتویٰ بازی کے رجحان میں اضافہ ہوا
شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے اتوار کو العربیہ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ''اکثر اوقات متنازعہ فتوے جاری کرنے والے مبلغیں حضرات میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی تمنا رکھتے ہیں اور میڈیا پر نمودار ہونے کی خواہش ہی کے زیر اثر وہ فتوے جاری کرتے رہتے ہیں''۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اس طرح ہر ایرے غیرے کی جانب سے غیر منظم انداز میں فتاویٰ کے اجراء سے غلط اور غیر مصدقہ باتوں کی تشہیر کا امکان رہتا ہے جبکہ غلط ادراک کی بنیاد پرشرعی حکم نہیں لگایا جاسکتا۔
شیخ عبدالعزیزآل شیخ کا کہنا تھا کہ شرعی فتاویٰ کو شرعی اصول وضوابط واحکام کے تحت ہی جاری کیا جاتا ہے اور یہ امر کسی ثبوت یا شہادت کے بغیرباتیں پھیلانے کے برعکس ہے۔
درایں اثناء سعودی مبلغ علی المالکی نے سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو مبہم مذہبی فتاویٰ کو جزوی طور پر پھیلانے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ بات اب کوئی سربستہ راز نہیں رہی کہ بعض چینلز خاص تصورات کو پھیلانے کے مقابلے میں شریک ہیں اور وہ اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
ان کے بہ قول بعض ٹی وی چینلز اپنے پروگراموں میں ان لوگوں کو بھی بلا لیتے ہیں جو شریعت کے ماہر نہیں ہوتے۔انھوں نے ایک مفتی اور مبلغ کے درمیان تمیز کی ضرورت پر زوردیا ہے۔
علی المالکی کا کہنا تھا کہ ''مبلغین اپنے فتاویٰ شرعی علم کی بنا پر جاری نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ ایسا ٹی وی پر نمودار ہونے کے لیے کرتے ہیں یا پھر وہ علمی بددیانتی کی بنیاد پر دوسروں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں''۔
انھوں نے مبلغین پر زوردیا کہ وہ مقامی مسائل سے متعلق فتاویٰ اور پوری مسلم دنیا سے متعلق فتووں میں تمیز کریں۔ انھوں نے مفتیٰ اعظم کے مذکورہ بیان کی تائید کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ''مسلم علماء اور شیوخ مسلم اُمہ کے مفادات کا تحفظ جاری رکھیں گے''۔