امریکی وزیر خزانہ جیکب لیو 'العربیہ' کی مایا جریدینی کو خصوصی انٹرویو دے رہے ہیں: سکرین گریب فوٹو 'العربیہ' نیوز

"تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ 'اوپیک' کے لیے خطرہ نہیں"

امریکی وزیر خزانہ جیکب لیو کی "العربیہ" سے خصوصی بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خزانہ جیکب لیو نے پیر کے روز العربیہ نیوز چینل سے خصوصی بات چیت میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافے سے تیل برآمد کرنے والے [اوپیک] ممالک کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

امریکی وزیر خزانہ جیکب لو نے یقین دلایا ہے کہ تیل کی پیداوار سے متعلق اضافے کے امریکی فیصلے سے تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم [اوپیک] کو کوئی خطرہ نہیں۔ یہ بات انہوں نے 'العربیہ' نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ "اگر عالمی معیشت بہتر ہوتی رہے تو شاید تیل کی طلب کے خدشات زیادہ نہیں ہوں گے۔"

انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایک تہائی تیل فراہم کرنے والے اوپیک ملکوں کے ان خدشات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ جو امریکا میں تیل کی پیداوار سے پیدا ہو رہے ہیں۔

لیو نے اپنے انٹرویو میں امریکا کے مشرق وسطیٰ میں موجود اتحادیوں سے تزویراتی اقتصادی تعلقات کی اہمیت اور امریکی معیشت کو درپیش مسائل کے حوالے سے بھی بات کی۔

امریکی وزارت خزانہ کے سربراہ کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے کے موقع پر لیو نے العربیہ نیوز چینل کی مایا جریدینی کو بتایا ہے کہ،" اس دورے کا سبے سے بڑا مقصد اہم تزویراتی اور اقتصادی اتحادیوں سے ملاقات کرنا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جیکب لیو نے روز متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ابوظہبی میں ملاقات کی۔ اس موقع پر دہشت گرد گروپوں کو خلیجی ریاست کے معاشی شعبے تک رسائی روکنے کے لئے تعاون پر اتفاق کیا۔

جیکب لیو کے مطابق امریکہ اور خطے کے ممالک کے درمیان دہشت گرد گروپوں کی مالی امداد پر نظر رکھنا، ایران پر معاشی پابندیوں اور توانائی کی ایک مستحکم مارکیٹ کے قیام کی خواہش مشترکہ ہے۔ لیو کے مطابق ان کے دورے کا مقصد خطے کے سرمایہ کاروں کو امریکہ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق آگاہ کرنا ہے۔

مسٹر لیو کا کہنا تھا کہ "دہشت گردوں کی مالی امداد کے معاملے پر امریکا اور خطے کے ملکوں کو مشترکہ طور پر تشویش ہے۔ اسی طرح ایران پر پابندیاں اور معیشت کو پھلنے پھولنے میں مدد فراہم کرنے والی توانائی کی مستحکم منڈی کا قیام بھی ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔" انہوں نے کہا کہ میں اپنے دورہ مشرق وسطی میں مقامی سرمایہ کاروں کو امریکا میں سرمایہ کاروں کی بھی ترغیب دوں گا۔

امریکی معیشت

رجایئت پسندی کے باوجود امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سنہ 2007ء کے مقابلے میں بے روزی کی شرح میں اضافہ اور گرتی ہوئی شرح نمو ہمارے لیے باعث تشویش ہیں۔

"امریکی معیشت کساد بازاری کے سب سے بڑے بحران کے منفی اثرات سے بہت سے حد تک باہر نکل آئی ہے۔ ہم نے معیشت میں بحران سے پہلے والی صورتحال میں بہتری دیکھی ہے۔"

"وقتی بے روزگاری کی شرح بحران سے پہلے کی سطح پر لوٹ آئی ہے۔ ہم نے طویل اور ہٹ دھرم قسم کی بے روزگاری کا بھی سامنا کیا ہے۔ ہمیں آبادی کے کسی حصے کو بھی ملازمت کے بغیر نہیں رہنے دینا تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

لیو نے بتایا کہ امریکی آبادی میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ پریشانی اور مشکلات کا باعث ہے۔ امریکی شہریوں کے بڑھاپے میں داخل ہو ملک کی لیبر فورس چھوڑنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو امریکی معیشت برداشت نہیں کر سکتی ہے۔"

یوکرینی بحران پر روس کا موقف

لیو کے مطابق واشنگٹن انتظامیہ یورپی اور جی 7 اتحادیوں کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہے تاکہ مشرقی یوکرین میں جاری سیاسی بحران کے تناظر میں روس پر مزید پابندیوں کا اطلاق کیا جائے۔ مغربی ممالک میں یوکرینی بحران کے آغاز سے ہی کریملن سے جڑے سرکردہ روسی عہدیداروں اور چند کاروباری شخصیات پر پابندیاں لگا دی تھیں۔

ہم نے دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا تھا کہ یوکرین سے متعلق روسی اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہئیے ہے۔ ہم نے روس پر دبائو ڈالنے کے لئے محتاط اقدامات اٹھائے تاکہ ماسکو کی معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔ روس کو اندازہ ہے کہ اگر انہوں نے یوکرین کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے والی روش تبدیل نہ کی تو انہیں مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں