Your browser doesn’t support HTML5 video
ضیوف الرحمان کی حفاظت، پہرے داران حرم کی اولین ترجیح
مسجد حرام کی توسیعی منصوبے پر جنگی بنیادوں پر تعمیراتی کام اور ماہ صیام میں معتمرین کرام کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے باعث محافظین کعبہ کی ذمہ داریوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
مسجد حرام میں متعین پبلک سیکیورٹی ادارے کے اہلکار اپنی جان پر کھیل کر اللہ کے مہمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ العربیہ نیوز چینل کی ماہ صیام کے حوالے سے خصوصی رپورٹ میں رش کے دنوں میں مسجد حرام کے پہرے داروں کی ان تھک مساعی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تعمیراتی کاموں کے تسلسل اور معتمرین کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے باعث سیکیورٹی اہلکاروں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ تعمیراتی کام کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ سے پیدل اور سوار زائرین کو بچاتے ہوئے مناسک کی ادائی میں ان کی مدد کرنا یقینا ایک مشکل مرحلہ ہے۔
سیکیورٹی اہلکار روزے کی حالت میں معتمرین کی خدمت اور راتوں کو بھی اللہ کے مہمانوں کا تحفظ یقنیی بنانے میں جتے رہتے ہیں۔
ماہ صیام کے اختتام پر معتمرین کی تعداد میں کمی آ جاتی ہے مگر پبلک سیکیورٹی کے ادارےکے تمام اہلکار ضیوف الرحمان کی خدمت میں پھر بھی چوکس رہتے ہیں۔ وہ خود کو مشکل میں ڈالتے ہیں مگر حجاج ومعتمرین کو ہر قسم کی پریشانی سے بچانے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں۔
اسی بارے میں
-
مسجد حرام توسیع، دوسرا مرحلہ مکمل ہو گیا: شیخ السدیس -
مسجد حرام: 72 زبانوں میں قرآنی تراجم دستیاب ہوں گے -
مسجد حرام: خواتین زائرین کی رہنمائی کیلیے 1000 خواتین کارکن -
مسجد حرام میں یومیہ 15 ہزار معتمرین میں آب زم زم تقسیم -
عہد نُبوت کی لافانی یادگار"غار ثور" معتمرین کی توجہ کا مرکز! -
900 رضاکار مسجد حرام جبکہ 400 مسجد نبوی میں تعینات