مصری دارالافتاء کے فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ آن لائن چیٹ رومز برائی کا منبع ہیں۔
نامحرم مرد و خواتین میں آن لائن بات چیت غیر اسلامی!
مصر کے دارالافتاء نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ نامحرم مرد و خواتین کے درمیان آن لائن چیٹنگ خلافِ اسلام ہے۔
مصری اخبار الاہرام آن لائن کی نیوز ویب سائٹ کے مطابق دارالافتاء نے ایک آن لائن بیان میں عمومی سوالات کے جواب میں یہ فتویٰ جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ''آن لائن چیٹ رومز برائی کا منبع اور شیطان کے لیے دروازہ کھولتے ہیں،بے راہ روی کا سبب اور فتنہ ہیں اور اس سے غیر اخلاقی کردار کی راہ ہموار ہوتی ہے''۔
تاہم اس فتوے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ناگزیر صورت میں خاتون کی کسی غیرمحرم مرد سے اس طرح کی گفتگوؤں کی اجازت ہے۔
فتویٰ میں خواتین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ذاتی تحفظ اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے کسی غیر محرم مرد کو تصویر نہ بھیجیں کیونکہ ایسی تصاویر کو منحرف کردار کے حامل لوگ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
فتویٰ کے مطابق:''تجربات کے اعادے نے یہ بات ثابت کی ہے کہ ہمارے اس دور میں آن لائن چیٹس وقت کا ضیاع اور وقت کا بے مقصد استعمال ہیں''۔الاہرام آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کے صارف مصریوں نے اس فتویٰ کا مذاق اڑایا ہے۔
اسی بارے میں
-
فٹ بال حرام ہے:اسرائیلی میڈیا نے پرانا سعودی فتویٰ ڈھونڈ نکالا -
سعودی عالم نے کھلے بوفے کے خلاف فتویٰ کی تردید کردی -
کھلے بوفے میں ہمہ نوع کھانوں کے خلاف سعودی فتویٰ -
سعودی مذہبی پولیس کا نئے سال کی تقریبات منانے پر انتباہ -
زبوں حال شامی باشندے کتے، گدھے اور بلیاں کھانے پر مجبور -
مصری عالم دین کا مرسی مخالف مظاہرین کے قتل کا فتویٰ