طفلة الأدغال

وحشی درندوں میں کئی سال گزارنے والی ننھی لڑکی!

’ماؤکلی‘ کا خیالی تصور حقیقت کےروپ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویسے تو والدین اپنے چھوٹے بچوں کو بلیوں جیسے بے ضرر جانوروں سے بھی بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور بچوں کو بلیوں کے درمیان تنہا نہیں چھوڑتے کہ مبادیٰ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے مگر فرانس کی ایک ننھی لڑکی کئی سال سے شیروں، چیتوں اور سانپ جیسے موذی، خطرناک اور وحشی شکاری جنگلی جانوروں کے درمیان نہایت بے خوف اور طمطراق سے زندگی گذار رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسان کے وحشی جانوروں کے ساتھ زندگی گذارنے کے خیالی اور تصوراتی واقعات کی کہانیاں تو ضرور سننے کو ملتی رہی ہیں مگر فرانس کی ایک ننھی لڑکی ٹیپی ڈیگری نے ان خیالی کہانیوں کو حقیقت کے روپ میں پیش کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔

کچھ عرصہ پیش تر برطانوی مصنف روڈیارڈ کبلینگ نے ’ماؤکلی‘ نامی ایک خیالی بچے کے کردار پرمبنی کتاب تالیف کی جسے ‘جنگ کی کتاب‘ کا عنوان دیا گیا۔ اس فرضی اور خیالی کہانی میں بتایا گیا کہ ’ماؤکلی‘ نامی بچی انڈیا کے گھنے جنگلات میں خون خوار بھیڑیوں کے ایک ریوڑ کے درمیان رہی جہاں وحشی بھیڑیوں نے اسے پاپا پوسا تھا۔ مگر فرانس کی ٹیپی ڈیگری نے ماؤکلی کے خیال تصور کو حقیقت کا روپ دھار کردنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

ڈیگری فرانس کے فوٹو گرافر جوڑے آلن ڈیگر اور سیلفی روبرٹ کی بیٹی ہیں۔ انہوں نے اپنی بچی کو کئی سال سے افریقا کے جنگلوں میں وحشی جانوروں کے ساتھ چھوڑ رکھا ہے، وہ بے خوف چیتوں اور ہاتھیوں کے درمیان رہتی اور ان پر سوار کرتی ہے۔ حقیقت کی دنیا میں یہ پہلا واقعہ ہے جس میں ایک فرانسیسی بچے کو افریقی جنگلوں میں وحشی جانوروں کے درمیان کئی سال کا عرصہ گذارنے کا تجربہ ہوا ہے۔ ٹیپی کےوالدین نے اپنی بیٹی کی جنگلی وحشی درندوں کے ہمراہ لی گئی تصاویر شائع کی ہیں جنہیں دیکھ کر ان کی سچائی کا یقین نہیں ہوتا۔

بیٹی کو وحشی جانوروں میں چھوڑے جانے کے تجربے پر مبنی ایک کتاب بھی تحریر کی گئی ہے۔ ’ٹیپی افریقا میں‘ کے عنوان سے لکھی گئی کتاب کے سرورق پر بچی کی ایک جنگی جانور کے ساتھ لی گئی تصویر شائع کی گئی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں