سعودی عرب کی حجازی کمیونٹی کے نوجوان ہاتھوں میں چھڑیاں پکڑے روایتی رقص المزمار میں شریک ہیں۔

سعودی عرب کا رقصِ المزمار یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت تعلیمی ،سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو نے دسمبر میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی دو سماجی روایات کو بین الاقوامی ثقافتی ورثے میں شامل کر لیا ہے۔

سعودی عرب سے المزمار کے رقص کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔روایتی طور پر حجازی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد یہ رقص کرتے ہیں ۔وہ لمبی چھڑیوں کو ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

عام طور پر یہ رقص قومی مواقع اور خاندانی تقریبات میں کیا جاتا ہے۔اس میں ایک سو تک مرد اور لڑکے شریک ہوتے ہیں اور بالعموم اس کے دوران میں دیرینہ محبت ،دلیری اور بہادری سے متعلق نغمے گائے جاتے ہیں۔

اس رقص میں شریک افراد ایک دوسرے کے آمنے سامنے دو قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور رقص کرنے والے جوڑا جوڑا بن کر اس گروپ کے وسط میں بڑی چھڑیوں کو گھماتے ہوئے آتے ہیں۔رقص المزمار میں شریک بعض افراد ڈھول بھی پیٹتے ہیں یا دف بجاتے ہیں۔

یونیسکو نے متحدہ عرب امارات سے عقاب پروری کے فن کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ عقاب کو سدھانے کے فن کا اس پرندے کے تحفظ سے بھی تعلق ہے اور یہ ایک ثقافتی ورثہ اور کمیونٹی کی اس مشغلے سے دلچسپی کا بھی مظہر ہے۔

ابتدائی طور پر سدھائے ہوئے عقابوں کو پرندوں اور جانوروں کے شکار کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور شکاری اس کے شکار کردہ پرندوں کا گوشت کھاتے تھے۔عقاب کے شکاری ابتدائی طور پر اس پرندے کی دیکھ بھال کرتے اور اس کو شکار کی غرض سے سدھاتے تھے۔ یونیسکو کے مطابق اس وقت عقاب کے ذریعے ساٹھ ممالک میں شکار کیا جاتا ہے۔ان میں قطر ،شام ،ہنگری ،پرتگال اور منگولیا شامل ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں