Untitled

نیتن یاہو کے دل کی نگرانی کے لیے نصب کیا گیا آلہ کیسے کام کرتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو طبیعت کی خرابی کے باعث گذشتہ دنوں ہسپتال میں داخل ہوئے جہاں انہیں دل کی نگرانی کے لیے ایک آلہ نصب کیا گیا۔

یہ آلہ، جسے اسرائیل کے ساحلی شہر قیساریہ میں واقع "شیبا میڈیکل سینٹر" میں نیتن یاہو کے دل کی دھڑکن کو دور سے مانیٹر کرنے کے لیے لگایا گیا اسے ''ہولٹر مانیٹر "' کے نام سے جانا جاتا ہے۔

جسم میں نصب یہ آلہ بلڈ پریشر اور دل کی دیگر بیماریوں کی جانچ کے لیے ایک مخصوص کمپیوٹر پر ڈیٹا ریکارڈ کرتا ہے۔

یہ آلہ 1949 میں ایجاد ہوا اور اس کا نام اس کے موجد نارویجن نژاد امریکی ڈاکٹر نارمن ہولٹر کے نام پر رکھا گیا، جن کا انتقال 1983 میں 69 سال کی عمر میں ہوا۔

12 چینلز کے ذریعے یہ چوبیس گھنٹے مسلسل دل کی دھڑکن کی نگرانی کرتا ہے جو دل کو مختلف سمتوں سے مانیٹر کرتے ہیں، اور 3 سال کے طویل عرصے تک ریکارڈنگ کر سکتے ہیں۔

جسامت کے لحاظ سے یہ آلہ کافی چھوٹا ہوتا ہے، اس کی لمبائی تقریباً آدھا سگریٹ جتنی اور چوڑائی محض چند ملی میٹر تک ہوتی ہے۔
اسے مقامی اینستھیزیا کے بعد بائیں جانب سینے کے پٹھوں میں لگانے میں چند منٹ لگتے ہیں، جس کے بعد مریض کو کچھ دیر ریکوری روم میں منتقل کیا جاتا ہے۔

ہولٹر جو سب سے اہم کام کرتا ہے وہ دل سے برقی سگنل وصول کرنا ہے، اور انہیں پہلے سے پروگرام کی گئی ترتیبات کے مطابق ہر چند منٹ میں ریکارڈ کرتا ہے، اور جب مریض دل کی غیر معمولی دھڑکن تھکاوٹ یا بے ترتیب دھڑکن حیسی علامات کا شکار ہوتا ہے تو یہ فوری طور پر دور موجود کمپیوٹر میں منتقل کرتا ہے۔

یہ آلہ 3 سال کی مدت کے لیے کامیاب ہوتا ہے، جس کے بعد اسے مقامی اینستھیزیا کے ذریعے جسم سے نکال دیا جاتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں