جنگ چھڑنے کی صورت میں کانگریس کے لیے بنائی گئی امریکی خفیہ پناہ گاہ

ماسکو سے جنگ کا خوف، واشنگٹن نے کانگریس کے لیے پناہ گاہ کب بنائی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی دنیا میں سرد جنگ کے دور کے آغاز ہوگیا تھا۔ اس سرد جنگ نے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو سوویت یونین کے خلاف کھڑا کر دیا اور روس نے مشرقی بلاک کے ممالک کی قیادت کی۔

سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی ایک سے زیادہ مواقع پر ایک خطرناک حد تک بڑھی اور تیسری عالمی جنگ جیسی علامات کا سبب بنی۔ جوہری جنگ چھڑنے اور اس کے شہروں کے تباہ کن حملوں کی زد میں آنے کے بڑھتے ہوئے خدشات کے دوران امریکہ نے جنگ کے دوران امریکی کانگریس میں ایک خصوصی پناہ گاہ کی تعمیر سمیت متعدد اقدامات اٹھائے تھے۔

کیوبا کے انقلاب کی کامیابی اور کوریائی جنگ اور اس کے نتائج کی وجہ سے سوویت یونین کے ساتھ تناؤ کی بڑھتی ہوئی شدت اور 1955 میں شروع ہونے والی ویتنام جنگ کی توسیع کے ساتھ امریکی حکومت نے 1950 کی دہائی کے آخر میں خفیہ پناہ گاہ بنانے کا اقدام کیا تھا۔ سوویت یونین کے ساتھ جوہری جنگ کی صورت میں کانگریس کے لیے ایک خفیہ چھپنے کا مرکز قائم کرنے کے مقصد کے ساتھ گرین برئیر ریزورٹ میں پناہ گاہ بنائی گئی تھی۔

یہ خفیہ پناہ گاہ 1959 اور 1962 کے درمیان تعمیر کی گئی تھی جو ویسٹ ورجینیا پویلین کی مسلسل تعمیر کے ساتھ ساتھ تھی۔ گرین برئیر ریزورٹ کے مالکان نے وفاقی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ برقرار رکھا کہ بین الاقوامی بحران کی صورت میں ریزورٹ کی جائیداد کو مقننہ کے لیے ہنگامی جگہ میں تبدیل کردیا جائے گا۔

اس زیر زمین سہولت میں کشادہ بیڈ رومز، ایک کچن، ایک ہسپتال اور کانگریس کے اراکین کے لیے ایک نشریاتی مرکز موجود تھا۔ بعد میں نشریاتی مرکز کے اندرونی ڈیزائن کو ماحول سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تبدیل کیا گیا تاکہ ناظرین کو یقین ہو کہ یہ سیشن واشنگٹن، ڈی سی میں منعقد ہو رہے ہیں۔

نمائش ہال اس پناہ گاہ کے سب سے بڑے ہال کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دو ہال تھے جن میں سے پہلا ہال تقریباً 470 افراد کی رہائش کے لیے تھا اور اسے ایوانِ نمائندگان کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ دوسرا ہال 130 افراد کی میزبانی کے لیے مختص کیا گیا تھا اور اسے سینیٹ کے اجلاسوں کے لیے ہیڈ کوارٹرز کے طور پر رکھا گیا تھا۔ گرینڈ ایگزیبیشن ہال کو دونوں کونسلوں کے درمیان مشترکہ اجلاسوں کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ ان سب کے علاوہ یہ ریزورٹ بڑے بڑے گوداموں سے لیس تھا جس میں چھ ماہ کے لیے خوراک کا کافی سامان موجود تھا۔

اس زیر زمین بنکر کے اندر کانگریس کے اراکین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دیواروں کو مضبوط کنکریٹ سے بنایا گیا تھا ۔ ان کی موٹائی دو فٹ تھی۔ یہ بنکر 15 فٹ تک بلند لوہے کے دیوہیکل دروازوں سے لیس تھا۔ ہر دروازے کا وزن تقریباً 28 ٹن لگایا گیا تھا۔

کانگریس کی پناہ گاہ کی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے اس کی تعمیر کے لیے شیل کمپنی پر انحصار کیا تھا۔ گرین بریئر کے اہلکاروں نے یہ افواہ پھیلائی کہ پناہ گاہ کی تعمیراتی ٹیم ٹیلی ویژن سیٹوں اور بجلی کی لائنوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔

تقریباً 30 سال تک سروس میں رہنے کے باوجود امریکی حکام نے کبھی بھی گرین برئیر کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں کیا۔ کیوبا کے بحران کے دوران کانگریس کے ارکان نے پناہ گاہ سے دور رہتے ہوئے اپنا کام معمول کے مطابق جاری رکھنے کو ترجیح دی۔ امریکی حکام تقریباً 30 سال تک اس پناہ گاہ کے بارے میں بات کرنے سے کرتے رہے۔ 1992 میں واشنگٹن پوسٹ کے ایک مضمون میں اس کا انکشاف کیا گیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں