دنیا کا سب سے الگ تھلگ گھر
دنیا کے سب سے الگ تھلگ گھر کی کہانی جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں
دنیا کا سب سے تنہا گھر ایک ایسے دور دراز جزیرے پر واقع ہے جس میں انسان آباد نہیں ہیں۔ یہ گھر اپنے جغرافیائی محل وقوع اور آس پاس زندگی کی کمی کی وجہ سے دنیا کا سب سے عجیب اور متنازعہ سمجھا جاتا ہے۔
برطانوی اخبار ’میٹرو‘ کی رپورٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی نظر سے گذری ہے۔ رپورٹ میں دنیا کے سب سے الگ تھلگ مکان کی تصویر شائع کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک دور دراز علاقے میں واقع ہے جس کی آبادی صفر ہے۔
اخبار نے کہا کہ "جو بھی اس دنیا میں انتہائی تنہائی کی تلاش میں ہے وہ اس پراپرٹی پر غور کرسکتا ہے۔اسے دنیا کا سب سے تنہا گھر قرار دیا جاتا ہے، اور یہ ایک الگ تھلگ جزیرے کی واحد جائیداد ہے، جس کی آبادی صفرنہ ہونے کے برابر"۔
الیدائی کا جزیرہ جہاں یہ گھر واقع ہے جنوبی آئس لینڈ میں ہے۔ یہ ارخبیل ویستمنایار‘‘ کا حصہ ہے جو 18 جزائر پر مشتمل جزائر کا ایک گروپ ہے۔ اس کی آبادی صرف 4,414 افراد پر مشتمل ہے۔
جزیرے کے وسط میں ایک سفید مکان ہے۔ ایک ایسی جائیداد جو مکمل طور پر اسراریت میں ڈوبی ہوئی ہے اور برسوں سے ترک کر دی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس گھر نے سازشی نظریات کی ایک سیریز کو جنم دیا، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے زومبی apocalypse سے ایک مثالی پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا، جب کہ دیگر نظریات کا کہنا ہے کہ اسے ایک مذہبی فرقے نے استعمال کیا تھا، کچھ لوگ کہتے ہیں یہ آئس لینڈ کے گلوکار Björk کی ملکیت ہے۔
سب سے دلچسپ سوال باقی ہے، وہ یہ یہ چھوٹی، الگ تھلگ رہائش گاہ وہاں کیسے قائم ہوئی؟ اسے کیوں ترک کیا گیا اس کا جواب اس اہم حقیقت میں ہے کہ اسے کسی ایسے شخص نے نہیں بنایا تھا جس نے وہاں رہنا تھا۔ بلکہ Iliday Hunting Association نے بنایا تھا۔ جوشکار کے مقصد کے لیے شکاریوں کی عارضی قیام گاہ کے طور پراستعمال ہوتا تھا۔
میٹرو اخبار کی طرف سے شائع کردہ معلومات کے مطابق لاوارث گھر 1950 کی دہائی میں شکاریوں کے لیے ایک جگہ کے طور پر بنایا گیا تھا۔
لیکن دنیا کے سب سے الگ تھلگ گھروں میں سے ایک ہونے کے باوجود سفید گھر 2021ء میں آنے والوں سے خالی نہیں تھا۔ یوٹیوبر ریان ترہان نے اس گھر کا دورہ کیا اور 24 گھنٹے تک وہاں رہے۔
ترہان نے نوٹ کیا کہ مقامی باشندوں کا خیال تھا کہ پیشہ ورانہ تجربہ کے بغیر کسی کے لیے بھی اس جزیرے پر سفر کرنے کی کوشش کرنا خطرناک ہے، لیکن اس نے بہرحال ایسا کیا۔
وہاں پہنچنے کے لیے کئی کشتیاں لینے کے بعد جس میں ایک فیری اور ایک چھوٹی کشتی بھی شامل ہے سے سفر کرنا پڑتا ہے۔ پتھریلے پانیوں اور گھنے دھند کو عبور کرنا ہوتا ہے۔ ریان کو اپنی لینڈنگ کو محفوظ بنانے کے لیے پہاڑ کے کنارے پر چڑھنے کے لیے رسی کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
خیال ہے کہ یہاں کوئی بجلی یا انڈور پلمبنگ نہیں ہے لیکن مکان میں بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کا انتظام ہے جسے بھاپ کے کمرے کو بجلی دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ریان ان سالوں کے دوران واحد وزیٹر نہیں تھا۔ 70 سال پہلے گھر کی تعمیر کے بعد سے 11,264 دوسرے لوگ اس میں آچکے ہیں۔ اس جزیرے کی وسیع تر تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ مختلف خاندان تقریباً 300 سالوں سے جزیرے پر جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں۔
تاہم 1930ء کی دہائی میں پوری کمیونٹی دیگر زیادہ آبادی والے مقامات کی طرف روانہ ہوگئی، کیونکہ انہیں احساس ہوا کہ انہیں کہیں اور بہتر مواقع میسر ہوں گے۔ انہیں زیادہ تر ماہی گیری اور کھیتی باڑی پر گزارہ نہیں کرنا پڑے گا۔