People line up to fill containers with water at a makeshift camp for displaced Palestinians in Deir al-Balah in the central Gaza Strip on August 19, 2024. (AFP)

'ہیومن رائٹس واچ' نے غزہ میں فلسطینیوں کو جبری طور پر پیاسا رکھنے کا انکشاف

بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ انسانی حقوق کے ادارے 'ہیومن رائٹس واچ' نے اسرائیل کو نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ انسانی حقوق کے ادارے 'ہیومن رائٹس واچ' نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل جس نے ہزاروں فلسطینیوں کو غزہ میں قتل کیا ہے، جانتے بوجھتے فلسطینیوں کو پینے کے صاف پانی تک سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ اس کے اس انتہا کو چھوئے ہوئے یہ اقدامات نسل کشی ہیں۔

اسرائیل کی یہ جنگی پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ وہ فلسطینی شہریوں کے قتل عام کے لیے کوشاں ہے اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اسرائیلی حکام انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔

'ہیومن رائٹس واچ' نے مزید کہا 'غزہ میں اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے یہ 1948 کے کنونشن کی رو سے نسل کشی کا اقدام ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے اپنے اس روایتی تردیدی مؤقف کو دہراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کا احترام کیا ہے اور سات اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کا جواب دے رہا ہے، جو اس کا دفاعی حق ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اسرائیلی وزارت خارجہ نے لکھا ہے 'سچ یہ ہے کہ 'ہیومن رائٹس واچ' کی رپورٹ جھوٹ ہے۔'

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے 'جب سے جنگ شروع ہوئی ہے اسرائیل نے انسانی بنیادوں پر خوراک، پانی اور دوسری اشیاء کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی۔ بلکہ امدادی سامان کے قافلوں پر حماس کی طرف سے حملے کیے جاتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے لیے 'ہیومن رائٹس واچ' کے ڈائریکٹر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'ہم نے یہ دیکھا ہے اور اس بارے میں شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی حکومت جانتے بوجھتے فلسطینیوں کو قتل کرتی ہے اور اس کی تردید کر دیتی ہے کہ پانی زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔'

جواباً اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے یہ یقینی بنایا ہے کہ غزہ میں پانی کی سپلائی کا انفراسٹرکچر اپنا آپریشن بحال رکھ سکے۔ اسی طرح اسرائیل کے بین الاقوامی شراکت دار پانی کے ٹینکر اسرائیلی راہداریوں سے لے کر غزہ جاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے بھی پانی کے ٹینکر لے کر گئے ہیں۔ اب تک اسرائیل غزہ میں 1.2 ملین ٹن کی امداد غزہ میں فراہم کرنے کی اجازت دے چکا ہے۔

خیال رہے 'ہیومن رائٹس واچ' دوسرا بڑا انسانی حقوق گروپ ہے جس نے اس مہینے کے دوران اپنی مرتب شدہ رپورٹ میں اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب قرار دیا ہے۔

اس سے پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی اپنی رپورٹ میں اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا ذمہ دار قرار دے چکی ہے۔

اہم بات ہے کہ یہ دونوں اہم رپورٹس بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری چھپنے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے ساتھ ساتھ ان کی کابینہ کے سابق رکن اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے بھی جنگی جرائم میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

یاد رہے 1948 کا نسل کشی سے متعلق کنونشن یہودیوں کی نازیوں کے ہاتھوں ہونے والی نسل کشی کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔

اس کنونشن میں نسل کشی کے جرم کی واضح تعریف شامل کی گئی ہے کہ جس میں جان بوجھ کر تباہی کی جائے۔ خواہ یہ تباہی کسی خاص علاقے میں ہو یا ہر جگہ ہو۔ نسل، ، قومیت یا مذہب کی بنیاد پر کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جائے ، یہ نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔

'ہیومن رائٹس واچ' کی 184 صفحات پر مبنی اس رپورٹ میں واضح اور دوٹوک لفظوں میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کو پینے کے پانی سے جبری طور پر محروم رکھے ہوئے ہے۔ اس نے بجلی کا نظام جانتے بوجھتے تباہ کیا ہے اور غزہ میں شہریوں کو ایندھن تک رسائی کے علاوہ پانی کے نکاس سے بھی جنگی حکمت عملی کے تحت محروم رکھا ہوا ہے۔

غزہ کے فلسطینیوں کو بڑی مشکل سے دن میں محض چند لیٹر پانی تک رسائی مل پاتی ہے جو ایک انسان کی زندگی کے لیے یومیہ 15 لیٹر پانی کی ضروری مقدار سے بہت کم ہوتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں