Deepseek logo is seen in this illustration taken, January 27, 2025. REUTERS/Dado Ruvic/Illustration TPX IMAGES OF THE DAY
چینی ایجاد ڈیپ سیک امریکیوں کے لئے ایک وارننگ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیپ سیک کے بعد ہماری انڈسٹری کو جاگ جانا چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں اب دھیان بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے لیے مثبت چیز ہو سکتی ہے، ہم اربوں ڈالرز خرچ کرنے کی بجائے کم قیمت میں ایسا ہی حل نکال سکیں گے۔
چین کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشن ڈیپ سیک نے اوپن اے آئی اور اس سے جڑی بڑی ٹیک کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا دیں۔ بلومبرگ کے مطابق امریکہ کی وال سٹریٹ کو 1 کھرب ڈالر کا نقصان جھیلنا پڑا اور اس کی وجہ یہ بنی کہ ڈیپ سیک نے اپنا نیا مصنوعی ذہانت پر مشتمل آر ون ماڈل لانچ کیا۔
جہاں امریکی کمپنی اوپن اے آئی کے چیٹ باٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ سمیت دیگر کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں کئی سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی وہیں چین کی ایک کمپنی نے صرف 6 ارب ڈالر میں چیٹ باٹ بنا کر عوام کے لیے مفت کر دیا۔
ڈیپ سیک کے مطابق ان کا چیٹ باٹ انتہائی مشکل سوالوں کے حل باآسانی تلاش کر سکتا ہے اور اس کی کارکردگی چیٹ جی پی ٹی جیسی ہی ہے، مگر اس پر آنے والی لاگت انتہائی کم ہے اور صارفین بغیر کوئی رقم ادا کیے اس کے تمام فیچرز استعمال کر سکتے ہیں۔
ڈیپ سیک کا آر ون بھی ایک اوپن سورس ماڈل ہے، یعنی دوسری کمپنیاں اس کے کوڈ تک رسائی حاصل کرتے ہوئے متبادل مصنوعی ذہانت کے ماڈلز ایجاد کر سکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ہفتے میں ڈیپ سیک چیٹ جی پی ٹی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایپل کے ایپ سٹور پر موجود فری ایپلی کیشنز میں سرفہرست آ چکی ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ ڈیپ سیک اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے مصنوعی ذہانت میں بڑی کمپنیوں کی شراکت کے ساتھ پانچ سو ارب ڈالر کے ’سٹار گیٹ اے آئی‘ منصوبے کا اعلان کیا۔
ٹینکالوجی کی دنیا میں روایتی سوچ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو اپنے سسٹمز کو ٹرین کرنے کے لیے مہنگی اور جدید ترین کمپیوٹر چپس کی ضرورت ہوتی ہے جو زیادہ کمپیوٹنگ پاور مہیا کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔
جہاں ان کمپنیوں کو بہترین کمپیوٹنگ چپس کی ضرورت پیش آتی ہے وہیں این ویڈیا نامی کمپوٹنگ چپس بنانے والی کمپنی ان ضروریات کو پورا کرنے میں سرفہرست نظر ہے۔
تاہم ڈیپ سیک کے آنے سے یہ تاثر دم توڑ گیا کہ مصنوعی ذہانت میں کامیابی کے لیے مہنگی چپس اور ٹیکنالوجی درکار ہے، اور اس کا براہ راست اثر این ویڈیا کی مالیت پر پڑا۔
گذشتہ روز امریکی سٹاک مارکیٹ میں بد ترین مندی کی کیفیت نظر آئی اور این ویڈیا کی مالیت میں 600 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ سٹاک مارکیٹ 1 ٹریلین ڈالر کے نقصان سے گزری اور اس میں مصنوعی ذہانت کی صنعت کے بڑے نام جیسے کہ مائیکروسافٹ، گوگل، میٹا اور دیگر کی سٹاک مالیت میں گراوٹ آئی۔ صرف یہ ہی نہیں، امریکہ کے ٹیک ارب پتیوں کی جیب سے مجموعی طور پر 108 ارب ڈالر بھی نکل گئے۔
بلومبرگ کو ایک بیان میں این ویڈیا کے ترجمان نے کہا کہ ڈیپ سیک مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک ترقی ہے. ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ایک کمپنی ٹیسٹ ٹائم سکیلنگ کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے نئے اے آئی ماڈلز بنا سکتی ہے، اور وہ بھی بڑے پیمانے پر دستیاب ماڈلز اور کمپیوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جو مکمل طور پر ایکسپورٹ کنٹرولڈ ہیں۔
واضح رہے این ویڈیا وہ کمپنی ہے جس نے ڈیپ سیک کے آنے پر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا اور اپنی حصص میں 17 فیصد کمی آتے دیکھی۔
ڈیپ سیک کا موجد کون؟
ڈیپ سیک کمپنی چین کے شہر ہانگزو میں قائم ہے، اس کی بنیاد 2023 کے آخر میں لیانگ وینفینگ نے رکھی تھی، جو ایک انٹرپرینیور ہیں اور ہائی فلائر نامی ہیج فنڈ بھی چلاتے ہیں۔
اگرچہ لیانگ کو چین سے باہر بہت کم جانا جاتا ہے لیکن ان کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور سرمایہ کاری کے امتزاج میں ایک وسیع تاریخ موجود ہے۔ 2015 میں لیانگ وینفینگ نے ایک چینی کوانٹی ٹیٹو ہیج فنڈ قائم کیا جسے ہائی فلائر کہتے ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق مقداری یا 'کوانٹ' ہیج فنڈز ٹریڈنگ الگورتھم اور شماریاتی ماڈلز پر انحصار کرتے ہیں تاکہ مارکیٹ میں پیٹرن تلاش کیے جا سکیں اور سٹاک کی خود بخود خرید یا فروخت کر سکیں۔
مالیاتی اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے اور پیچیدہ آپریشنز کی حمایت کرنے کے لیے لیانگ نے ہائی فلائر کے تحت ایک ریسرچ برانچ قائم کی جسے Fire-Flyer کہا جاتا ہے اور سپر کمپیوٹر بنانے کے لیے گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) اکٹھے کرنا شروع کیے۔
لیانگ وینفینگ نے این ویڈیا کی H100 چپس سٹاک کی تھیں، اور یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ چپس کی درآمد پر پابندی کے باوجود چین ابھی بھی سستی چپس برآمد کرسکتا ہے۔
سنہ 2023 میں، لیانگ نے فاؤنڈیشنل AI ماڈلز تیار کرنے اور بالآخر مصنوعی جنرل انٹیلی جنس (AGI) کو کریک کرنے کے مقصد کے ساتھ ڈیپ سیک نامی ایک نئی کمپنی میں فنڈ کے وسائل کو ری ڈائریکٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
چینی ٹیک نیوز سائٹ QBitAI کی ایک رپورٹ کے مطابق، تجربہ کار انجینئرز کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے، جو جانتے تھے کہ صارفین کے لیے AI پروڈکٹس کیسے تیار کیے جاتے ہیں، لیانگ نے چین کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی طلباء کو ڈیپ سیک کی تحقیقی ٹیم کا حصہ بنایا۔
ادھر برطانیہ خبر رساں ادارے رؤٹرز کے مطابق ڈیپ سیک نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ایپلی کیشن پر رجسٹریشنز کو روک رہے ہیں، اور اس کی وجہ بڑے پیمانے پر ہونے والے سائبر حملے ہیں۔