گپ شپ کے بارے میں iStock سے اظہار خیال
ایک دل چسپ تجربے کے نتائج ... خواتین مردوں سے زیادہ بولتی ہیں !
ایک نئے اور جامع سائنسی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 25 برس سے 64 برس کی عمر کے درمیان خواتین روزانہ اوسطا 3275 الفاظ مردوں سے زیادہ بولتی ہیں یا 20 منٹ زیادہ بات کرتی ہیں۔ عمر کے دیگر طبقوں میں بھی اعداد و شمار تقریبا اسی طرح کے رہے۔
انگریزی ویب سائٹ Science Alert نے اپنی رپورٹ میں امریکا میں ایریزونا یونیورسٹی میں کلینیکل سائیکالوجسٹ کولین ٹیڈویل کے حوالے سے بتایا کہ "دنیا بھر میں یہ بھرپور مفروضہ پھیلا ہوا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ باتیں کرتی ہیں۔ لہذا ہم نے ارادہ کیا کہ دیکھتے ہیں آیا یہ مفروضہ درست ہے یا نہیں"۔
اس سے قبل سال 2007 میں ہونے والے ایک تحقیقی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مرد اور خواتین دونوں روزانہ اپنی گفتگو میں برابر تعداد میں الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جو 16 ہزار یا اس کے لگ بھگ ہے۔ تاہم اس بار محققین کی ٹیم نے تحقیق کا حجم وسیع کیا اور اس میں چار ممالک سے 2197 افراد کو شریک کیا گیا ... اور 14 برس تک معلومات اور مختلف عمر کے افراد کی تفصیلات اکٹھا کی گئیں۔
تحقیق کے نتائج تک پہنچنے کے لیے 631030 صوتی کلپوں کا استعمال کیا گیا۔
نئی معلومات میں سال 2007 کی تحقیق کے مقابلے میں کئی فرق سامنے آئے۔
ایریزونا یونیورسٹی کے ماہر نفسیات ماٹیس میھل کا کہنا ہے "اگر حیاتیاتی عوامل مثلا ہارمونز بنیادی وجہ ہیں، تو دونوں جنسوں میں نوجوان بالغوں کے بیچ ایک بڑا فرق ہونا چاہیے ... اور اگر سماجی تبدیلیاں نسلی سطح پر محرک ہیں، تو بزرگ شرکاء کے درمیان جنسوں کے فرق میں بتدریج اضافہ ہونا چاہیے ... تاہم ایسا نہیں تھا۔"
عمروں کے اعتبار سے مردوں اور خواتین میں بہت اختلاف سامنے آیا۔ دونوں جنسوں میں ہی باتونی اور خاموش افراد پائے گئے۔
تحقیق میں شریک سب سے کم باتونی انسان ایک مرد رہا جو روزانہ صرف 62 الفاظ بولتا تھا۔ جہاں تک سب سے زیادہ باتونی انسان کا تعلق ہے تو وہ بھی ایک مرد رہا جس کے روزانہ بولے جانے والے الفاظ کی تعداد 124134 تک پہنچ گئی۔ فرض کریں اگر یہ شخص 24 گھنٹوں میں روزانہ آٹھ گھنٹے سوتا ہو تو اس کا مطلب ہوا کہ وہ روزانہ ایک منٹ میں 130 الفاظ کے قریب بولتا ہے۔