الأفوكادو - آيستوك
سبز سے بھورا، کیا رنگت بدلنے کے بعد ایوکاڈو کھانا محفوظ ہے؟
پھلوں اور سبزیوں میں انزائمز اور مرکبات ہوتے ہیں جو خلیوں میں ذخیرہ ہوتے ہیں اور آکسیجن کے ساتھ تعامل کرتے ہیں
بہت سے ایوکاڈو سے محبت کرنے والوں کو پھل کاٹنے کے بعد ایک عام مسئلے کا سامنا ہوتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اویوکاڈو کا خوبصورت سبز رنگت مختصر وقت کے بعد غیر دلکش بھورے رنگ میں بدل جانا ہے۔ یہ ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا رنگت بدلنے کے بعد بھی اس پھل کو کھانا محفوظ ہے؟
سب سے پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ ایوکاڈو کی رنگت کیوں بدلی ہے، کیا یہ کاٹنے اور ہوا کے سامنے آنے کی وجہ سے ہے یا پھل بنیادی طور پر خراب ہو چکا ہے۔ ۔ ویب سائٹ ’’ ہیلتھ ‘‘کے مطابق آکسیڈیشن سے بننے والا بھورا ایوکاڈو کھانے کے لیے محفوظ ہے لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہو سکتا ہے۔ لہذا ہر قسم کا ایوکاڈو جو بھورا ہو جاتا ہے کھانے کے لیے محفوظ نہیں ہوتا کیونکہ بھورا پن خراب ہونے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
ایوکاڈو زیادہ پک کر بیکٹیریا کی نشوونما کی وجہ سے خراب ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بھورے اور کالے دھبے خرابی کی علامت ہوتے ہیں۔ اس وقت خراب ایوکاڈو کی بو بھی ناگوار ہو گی اور ذائقہ بھی ناگوار ہو گا۔ اگر آپ کو عجیب سی بو محسوس ہو اور ایوکاڈو نرم لگے تو بہتر ہے کہ اسے پھینک دیا جائے۔ ایوکاڈو میں نمی کی زیادہ مقدار کی وجہ سے پھپھوندی ایک اور عام مسئلہ ہے۔ ایسے ایوکاڈو کو پھینک دینا چاہیے جس میں پھپھوندی ہو، چاہے وہ پھپھوندی گودے کے اندر نہ بھی ہو بلکہ صرف چھلکے پر ہی کیوں نہ نظر آئے۔ ایوکاڈو اکثر انزیمیٹک براؤننگ اور زیادہ پکنے کی وجہ سے بھورا ہو جاتا ہے۔ دیگر وجوہات میں ٹھنڈ سے ہونے والا نقصان شامل ہے۔
انزیمیٹک براؤننگ
یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایوکاڈو کا گودا فصل کی کٹائی کے بعد اور ذخیرہ اندوزی کے دوران نقصان یا غلط ہینڈلنگ کی وجہ سے آکسیجن کے سامنے آتا ہے۔ پھلوں اور سبزیوں میں انزائمز اور مرکبات ہوتے ہیں جو خلیوں کے الگ الگ حصوں میں ذخیرہ ہوتے ہیں۔ یہ مالیکیولز اس وقت خارج ہوتے ہیں جب پھل خراب ہوتا ہے، کاٹا جاتا ہے، یا زیادہ پک جاتا ہے۔ آکسیجن کی موجودگی میں انزائمز مرکبات کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ یہ تعامل میلانین پیدا کرتا ہے جو بھورے پن کا سبب بنتا ہے۔
انزیمیٹک براؤننگ غذائی اجزاء کے نقصان، ناپسندیدہ ذائقہ، ساخت اور ظاہری شکل کا بھی سبب بنتی ہے۔ ایوکاڈو کے بھورے ہونے کی دیگر وجوہات یہ ہیں۔
زیادہ پکنا
ایک خاص حد تک پکنا مطلوب ہوتا ہے۔ جیسے جیسے پھل پکتا ہے، خلیے ٹوٹ جاتے ہیں، جس سے انزائمز، مرکبات اور شکر خارج ہوتے ہیں۔ اس سے آکسیڈیشن کی وجہ سے پھل کے اندر بھورا پن پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریا کی نشوونما کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کرتا ہے۔
ٹھنڈ سے ہونے والا نقصان
ٹھنڈ سے ہونے والا نقصان اس وقت ہوتا ہے جب پھل کو پکنے سے پہلے کم درجہ حرارت پر ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ ٹھنڈ سے متاثرہ ایوکاڈو پر بھورے- سرمئی یا گہرے دھبے یا لکیریں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ یہ پھل کھانے کے لیے محفوظ ہیں لیکن ان کا ذائقہ غیر مطلوب ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔
قدرتی خرابی
ایوکاڈو مائیکروبیل (بیکٹیریا اور فنگی) کی نشوونما کی وجہ سے خراب ہو سکتا ہے۔
بھورے ایوکاڈو کا کیا کریں؟
سب سے پہلے بو اور ساخت کو چیک کریں۔ اگر بھورا رنگ آکسیڈیشن کی وجہ سے ہے تو آپ بھورا ایوکاڈو کھا سکتے ہیں۔ اس صورت میں اس کی بو عجیب نہیں ہو گی۔ آپ اسے مکمل طور پر کھا سکتے ہیں یا اگر آپ بھورا حصہ نہیں کھانا چاہتے تو اسے ہٹا سکتے ہیں۔ تاہم اگر ایوکاڈو کی بو ناگوار یا کھٹی ہے تو آپ کو اسے نہیں کھانا چاہیے۔
مختلف ترکیب وں میں استعمال
بھورا ایوکاڈو زیادہ نرم ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ ایک بار جب آپ تصدیق کر لیں کہ یہ کھانے کے لیے محفوظ ہے، تو آپ اسے ایوکاڈو ڈپ بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ اسے سموتھیز میں بھی شامل کر سکتے ہیں یا مٹھائیوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اسے فرج میں رکھیں۔ بھورا ایوکاڈو تیزی سے خراب ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اسے فوری طور پر استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں تو آپ اسے تھوڑا سا تیل اور لیموں کا رس ملا کر ایک ایئر ٹائٹ کنٹینر میں فرج میں محفوظ کر سکتے ہیں۔