چقندر کا رس (ایسٹاک)
دماغ کی تیزی، یادداشت کی مضبوطی کے ضامن چھ باکمال مشروبات میں چقندر سرفہرست!
سبز چائے، گلاب کی پتیوں والی چائے اور کافی یادداشت اور فہم کو مضبوط بنانے والے مشروبات میں شامل ہیں
جب بات دماغ کی صحت کو بہتر بنانے کی آتی ہے تو عام طور پر سب سے پہلے ذہن میں سبز چائے اور کافی آتی ہے۔ مگر سائنس اس میدان میں بہت ترقی کر چکی ہے اور اب کئی ایسے مشروبات دریافت کیے جا چکے ہیں جو دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے اور یادداشت کو مضبوط کرنے میں مثبت اثر رکھتے ہیں۔
اخبار Economic Times میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ٹیری شینتانی جو ہارورڈ یونیورسٹی سے تربیت یافتہ غذائی ماہر ہیں، انھوں نے کچھ ایسے مشروبات تجویز کیے ہیں ،جن کے اثرات سائنسی طور پر ثابت ہیں اور جو یادداشت اور ادراکی کارکردگی (cognitive performance) کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
چقندر کا جوس
چقندر نائٹریٹس سے بھرپور ہوتا ہے، اس کا جوس جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی سطح بڑھانے میں مدد دیتا ہے، جو خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے، خاص طور پر دماغ کی طرف خون کے بہاؤ میں مدد دیتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق چقندر کا جوس پینے سے بزرگ افراد میں دماغی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے کیونکہ یہ دماغ میں خون کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے۔ یہ بات 2017 میں شائع ہونے والی جرنل آف جیرونٹولوجی کی ایک تحقیق میں بتائی گئی۔
خالص چقندر کے جوس کی 250 سے 375 گرام مقدار ہفتے میں چند بار پی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کو گردوں کا مسئلہ یا کوئی اور طبی حالت ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
ہببسکس (گلاب کی پتیوں والی) چائے
ہببسکس (گلاب کی پتیوں والی) چائے
ڈاکٹر ٹیری شینتانی تجویز کرتے ہیں کہ کرکدي ((Hibiscus) کی چائے پینا یادداشت اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس چائے میں جوسیپٹین نامی ایک فلیوونوئیڈ پایا جاتا ہے، جو دماغ کے خلیوں (خاص طور پر مائیکروگلیا سیلز) کو متحرک کرتا ہے تاکہ وہ بیٹا ایمیلائیڈ تختیوں کو صاف کریں، یہ وہ تختیاں ہیں جو الزائمر کی بیماری سے منسلک سمجھی جاتی ہیں۔بغیر چینی والی کرکديہ چائے کو وقتاً فوقتاً پینا دماغ کی حفاظت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
ہلدی اور کالی مرچ کی چائے ہلدی اور کالی مرچ کی چائے میں کرکومین پایا جاتا ہے، جو ایک ایسا مرکب ہے، جس میں سوزش کم کرنے اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرکومین یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر ان بالغ افراد میں جو معمولی دماغی کمزوری یا یادداشت کی کمی کا شکار ہوں۔
ہلدی کی چائے
کومبو چا
کومبوچا ایک خمیر شدہ پروبایوٹک مشروب ہے، جو دماغ اور آنتوں کے باہمی تعلق (Brain Gut Connection) کے ذریعے دماغی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ڈاکٹر ٹیری شینتانی کے مطابق کومبوچا میں موجود پروبایوٹکس دماغی کیمیائی مادّوں (Neurotransmitters) کی پیداوار کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے مزاج اور ادراک بہتر ہوتا ہے۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ کم شکر والا کومبوچا پینا زیادہ مفید ہے۔
گرین ٹی
سبز چائے کیٹیکنز (Catechins) سے بھرپور ہوتی ہے، جو طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس ہیں اور دماغی خلیوں کو آکسیڈیٹو تناؤ سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس میں ایل-تھیانین (L-Theanine) نامی ایک امینو ایسڈ بھی پایا جاتا ہے، جو ذہنی سکون پیدا کرتا ہے اور توجہ و ارتکاز کو بڑھاتا ہے۔ 2006 میں کی گئی ایک تحقیق سے ظاہر ہوا کہ سبز چائے کا استعمال دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ڈیمینشیا (یادداشت کی کمی) کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔بغیر چینی والی سبز چائے روزانہ پینا ایک مفید عادت سمجھی جاتی ہے۔
کافی
کافی میں موجود کیفین ایک قدرتی محرک (stimulant) کے طور پر دماغ کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس میں موجود کلوروجینک ایسڈ اعصابی نظام کی حفاظت میں مدد دیتا ہے۔تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ روزانہ دو سے تین پیالے کافی پینے سے فالج اور یادداشت کی کمزوری (ڈیمنشیا) کے خطرے میں تقریباً 30 فیصد کمی آتی ہے۔
ڈاکٹر شینتانی کے مطابق الزائمر کے مرض کے امکانات بھی کافی پینے والوں میں 30 فیصد کم پائے گئے ہیں۔مزید یہ کہ اگر ان مشروبات کو روزمرہ معمول میں شامل کیا جائے تو یہ دماغ اور یادداشت کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر کسی کو کوئی طبی مسئلہ ہو تو اپنی خوراک یا طرزِ زندگی میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔