ضغط الدم (آيستوك)

خون کے دباؤ پر قابو پانا یادداشت کمزور ہونےکے خطرے کو 15 فیصد تک کم کرتا ہے

یہ نتائج چین میں 4 سال جاری رہنے والی ایک تحقیق کے بعد سامنے آئے، جس میں 35 ہزار افراد نے حصہ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ خون کا دباؤ کم کرنے اور اسے قابو میں رکھنے میں مدد دینا،ذہنی کمزوری کے امراض خصوصاًیادداشت کھو جانے کی بیماری کے خطرات کو کم کر سکتا ہے، جو اس بات کی اہمیت بڑھاتا ہے کہ بلڈ پریشر کی باقاعدہ نگرانی اور اس کا مؤثر انتظام کیا جائے۔

برطانوی اخبار "دی گارڈین" کے مطابق محققین نے پایا کہ وہ افراد جو بلند فشارِ خون کو کم کرنے کے لیے ادویات یا ورزش جیسے مؤثر علاج لیتے ہیں، ان میں خرف کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق صرف 2021 میں دنیا بھر میں 57 ملین افراد ذہنی کمزوری کا شکار ہوئے، اگرچہ یہ تعداد بہت زیادہ ہےتاہم ماہرین ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ذہنی کمزوری بڑھاپے کا لازمی نتیجہ نہیں ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ ذہنی کمزوری کے تقریباً نصف کیسز کو 14 خطرناک عوامل پر قابو پا کر روکا یا مؤخر کیا جا سکتا ہے، جن میں سماعت کی کمزوری، تمباکو نوشی، موٹاپا، ضرورت سے زیادہ نشہ آور مشروبات، سماجی تنہائی کے ساتھ ساتھ بلند فشارِ خون بھی شامل ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ان میں سے آخری عامل یعنی بلند فشارِ خون پر قابو پانا خرف کے خطرے کو 15 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔

امریکی یونیورسٹی آف ٹیکساس ساؤتھ ویسٹرن کے میڈیکل سینٹر سے وابستہ اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر جیانگ ہی نے کہا: بلند فشارِ خون میں کمی لانے والا علاج اُن مریضوں میں خرف کو روک سکتا ہے جن کا ہائی بلڈ پریشر قابو میں نہیں ہوتا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ چونکہ دنیا بھر میں غیر قابو شدہ بلند فشارِ خون بہت عام ہے، اس لیے اس مؤثر طریقۂ علاج کو بڑے پیمانے پر اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر خرف کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔

چین اور امریکا کے محققین نے جریدے "نیچر میڈیسن" میں بتایا کہ اس تجربے میں 33 ہزار 995 افراد شامل تھے جن کی عمریں 40 برس یا اس سے زیادہ تھیں اور وہ غیر قابو شدہ بلند فشارِ خون میں مبتلا تھے۔ یہ افراد چین کے دیہی علاقوں کی 326 بستیوں میں رہتے تھے۔

تحقیقی ٹیم نے ان 326 دیہی بستیوں میں سے 163 کا انتخاب بے ترتیبی (رینڈم) کے ساتھ کیا، جہاں 17 ہزار 407 شرکاء کو ’’قرایہ ڈاکٹرز‘‘ یعنی مقامی طبی کارکن،جو باقاعدہ ڈاکٹر نہیں ہوتے۔ان کے ذریعے بلند فشارِکم کرنے کا خصوصی علاج دیا گیا۔
اس میں مفت یا کم قیمت ادویات، مریض کی حالت کے مطابق مقرر خوراکیں، ادویات کے باقاعدہ استعمال اور طرزِ زندگی میں تبدیلی جیسے وزن کم کرنا اور نمک میں کمی کے حوالے سے رہنمائی اور گھر پر بلند فشارِ کی نگرانی کے آلات و ہدایات شامل تھیں۔
باقی 163 بستیوں میں رہنے والے 16 ہزار 588 شرکاء کو ’’معمول کی نگہداشت‘‘ فراہم کی گئی، یعنی ان کا بلند فشارِ صرف عادی طبی ماحول میں ہی چیک اور کنٹرول کیا جاتا تھا۔
اگرچہ انہیں طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کی سفارش کی جاتی تھی اور کچھ نے بلند فشارِ کی ادویات بھی استعمال کیں، مگر اس گروہ کو نہ تو گھر پر استعمال کے لیے آلات دیے گئے، نہ مفت ادویات ملیں اور نہ ہی کوئی خصوصی تربیت دیتا ہے۔

چار سال بعد جب محققین نے شرکاء کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ بلڈ پریشر کے خصوصی انتظام والے گروہ میں 668 افراد خرف میں مبتلا ہوئے، جبکہ معمول کی دیکھ بھال والے گروہ میں یہ تعداد 734 تھی۔

تجزیے سے ثابت ہوا کہ پہلے گروہ میں خرف کا خطرہ 15 فیصد کم تھا۔ محققین نے یہ بھی پایا کہ یہ گروہ ذہنی کمزوری (ادراک میں کمی) کا شکار ہونے کے امکانات میں بھی 16 فیصد کم تھا۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کے سینٹر فار ڈسکوری آف برین سائنسز کی سربراہ پروفیسر تارا سپائرز جونز نے کہا کہ یہ تحقیق بلند فشارِکے مؤثر انتظام اور دل و خون کی نالیوں سے متعلق دیگر خطرات پر قابو پانے کی اہمیت کے بارے میں مضبوط شواہد فراہم کرتی ہے، تاکہ بڑھاپے میں دماغ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بلند فشارِ خون کا علاج کوئی مکمل ضمانت نہیں، کیونکہ علاج لینے کے باوجود کچھ افراد میں خرف پیدا ہو جاتا ہے۔‘‘

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں