وٹامن ڈی
چار غذائی سپلیمنٹس جو وٹامن D کے ساتھ جذب کو بہتر بناتے ہیں
وٹامن D کے ساتھ کیا چیزیں لی جائیں اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟
وٹامن D جسم میں کیلشیم جذب کرنے، پٹھوں کی حرکت بہتر بنانے اور مدافعتی نظام کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے افراد جو غذا یا دھوپ سے یہ وٹامن کافی مقدار میں حاصل نہیں کر پاتے، اسے سپلیمنٹ کی صورت میں لیتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق کچھ اضافی غذائی سپلیمنٹس وٹامن ڈی کے جذب کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں اور صحت کے لیے اضافی فائدے بھی فراہم کرتے ہیں۔
میگنیشم
1۔ میگنیشیم
میگنیشیم خون کے دباؤ اور اعصاب اور پٹھوں کی صحت کے لیے ضروری معدنیات ہے۔ ماہرین کے مطابق جسم میں میگنیشیم کی کمی ہو تو وٹامن D غیر فعال حالت میں رہتا ہے۔ اس لیے دونوں کا ساتھ استعمال ہڈیوں کی مضبوطی اور آسٹیوپروسس (ہڈیوں کے بھربھرے پن) سے بچاؤ میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ وٹامن D کی زیادہ مقدار میگنیشیم کم کر سکتی ہے، اس لیے مناسب توازن کے لیے ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہے۔
اومیگا تھری
2 - اومیگا تھری فیٹی ایسڈز
چونکہ وٹامن D چکنائی میں حل پذیر ہے، اس لیے اسے اومیگا تھری یا دیگر صحت مند چکنائیوں کے ساتھ لینے سے اس کا جذب بہتر ہوتا ہے۔ بعض تحقیقوں کے مطابق دونوں سپلیمنٹس کو اکٹھا لینے سے خلیاتی بڑھاپے کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور پری ڈائبٹیز کے مریضوں میں فاسٹنگ شوگر بہتر ہو سکتی ہے۔ اومیگا تھری عام طور پر محفوظ ہے مگر بعض اوقات معدے کے ہلکے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
3 - وٹامن K2
وٹامن K2 دل اور ہڈیوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیلشیم کو ہڈیوں اور دانتوں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے، تاکہ وہ نرم بافتوں یا شریانوں میں جمع نہ ہو۔ وٹامن D اور K2 ساتھ لینے سے ہڈیوں کی کثافت بہتر ہو سکتی ہے اور ہڈیوں کے چٹخنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
پروبائیوٹکس پر مشتمل خوراک
4 - پروبائیوٹکس
کچھ مطالعات کے مطابق وٹامن Dآنتوں کے مفید بیکٹیریا میں اضافہ کرتا ہے اور آنتوں کی سوزش کم کر سکتا ہے۔ سال 2020 کی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ پروبائیوٹکس اور وٹامن D ایک ساتھ لینے سے ذہنی صحت، انسولین حساسیت اور جسم کی سوزش میں بہتری آ سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ صحت مند آنتیں وٹامنD کے جذب اور اس کے استعمال میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔
وٹامن D کھانے کے ساتھ لینا چاہیے
چونکہ وٹامن D چکنائی میں حل پذیر ہے، اس لیے اسے کھانے اور خاص طور پر چکنائی والی غذا کے ساتھ لینا جذب کو بہتر بناتا ہے۔ خالی پیٹ لینے سے متلی یا کم جذب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ وٹامن D کو کچھ ادویات …جیسے اورلیسٹیٹ، اسٹیٹنز، اسٹیرائیڈز اور تھیازائیڈ ڈائیوریٹکس کے ساتھ احتیاط سے لیا جائے۔ وٹامن D اور کیلشیم کی زیادہ مقدار گردے کے مسائل یا متلی کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے ماہرِ طبیب کا مشورہ ضروری ہے۔