الزائمر (آئی سٹاک)

مردوں کے مقابلے میں خواتین الزائمر کی زیادہ شکار کیوں ہوتی ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک تازہ سائنسی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین اور مردوں میں دماغ کے مدافعتی خلیات (Immune Cells) کے ردعمل میں(خصوصا الزائمر کے مریضوں میں) بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ یہ دریافت جزوی طور پر وضاحت کرتی ہے کہ خواتین اس مرض میں زیادہ مبتلا کیوں ہوتی ہیں ؟ اکثر کیسز میں بیماری کا راستہ زیادہ شدید کیوں ہوتا ہے، جیسا کہ سائنس ویب سائٹ MedicalXpress نے رپورٹ کیا ہے۔
یہ تحقیق ریچسٹر میڈیکل یونیورسٹی (University of Rochester Medical Center) میں کی گئی اور نتائج Journal of Neuroinflammation میں شائع ہوئے۔

مطالعے میں خاص طور پر مائیکروگلیا (Microglia) پر توجہ دی گئی، جو دماغ کی بنیادی مدافعتی خلیات ہیں، دماغ کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں اور عصبی نقصان (Neural Damage) پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔

امریکی الزائمر ایسوسی ایشن کے مطابق سات ملین سے زائد امریکی اس مرض میں مبتلا ہیں اور ان میں سے تقریباً دو تہائی خواتین ہیں۔ اگرچہ اس فرق کو برسوں سے دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیا گیا ہے، اس کی حیاتیاتی وجوہات ابھی تک مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آئیں۔
اسی حوالے سے ڈاکٹر کیری اوبینیون جو یونیورسٹی آف رچسٹر میں نیوروسائنس کے پروفیسر اور تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہیں، انھوںنے کہا کہ یہ سمجھنا کہ یہ فرق کب، کیوں اور کہاں ظاہر ہوتا ہے، زیادہ مؤثر اور مخصوص علاج تیار کرنے کی کلید ہو سکتا ہے۔

مدافعتی ردعمل مضبوط لیکن زیادہ نقصان دہ

چوہوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ الزائمر سے متاثرہ خواتین کے دماغ میں مدافعتی خلیات ان جینز کی زیادہ سرگرمی دکھاتے ہیں، جو انٹرفیرون (Interferon) سے جُڑے ہوتے ہیں، خاص طور پر جب یہ خلیات بیٹا-ایمیلائڈ (Beta-Amyloid) پلیٹس کے ساتھ تعامل کرتے ہیں، جو مرض کی بنیادی خصوصیت رکھنے والے زہریلے جمع شدہ پروٹین ہیں۔

انٹرفیرونز عام طور پر وائرس سے لڑنے میں مددگار ہوتے ہیں، لیکن دماغ میں ان کا زیادہ فعال ہونا نیورولوجیکل سوزش (Neuroinflammation) اور اعصابی رابطوں (Neural Connections) کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

محققین نے نوٹ کیا کہ خواتین میں یہ زیادہ مدافعتی سرگرمی زیادہ اور زیادہ خراب شدہ پلیٹس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جس سے اعصابی خلیات کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

الزائمر۔ آئی سٹاک

تحقیق کی مرکزی محقق لیا کلسینس-رودریگیز نے کہا کہ نتائج حیران کن تھے، خاص طور پر یہ کہ خواتین کے مدافعتی خلیات بیٹا-ایمیلائڈ پروٹین کو زیادہ شدت سے جذب کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں دماغی بافتوں پر زیادہ شدید ضمنی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہارمونز فیصلہ کن عامل نہیں

عام رائے کے برعکس اس مطالعے میں خواتین میں مدافعتی فرق اور ہارمونی تبدیلیوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں پایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اختلافات شاید خلیات کی بنیادی نوعیت میں موجود ہیں، نہ کہ ہارمونز کی اتار چڑھاؤ میں۔

محققین کا خیال ہے کہ مدافعتی خلیات میں انٹرفیرون سگنلنگ کے راستے کو ہدف بنانے سے ایسے علاج دریافت کیے جا سکتے ہیں ،جو جنس کے فرق کو مدنظر رکھیں اور یہ رجحان عالمی سطح پر درست اور ذاتی نوعیت کے طبی علاج (Precision Medicine) کے رجحان سے ہم آہنگ ہے۔

مطالعے کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواتین اور مردوں کے دماغ میں حیاتیاتی فرق کو سمجھنا نہ صرف الزائمر کے مریضوں میں فرق کی وضاحت کرتا ہے بلکہ مستقبل میں زیادہ منصفانہ اور مؤثر علاج کے ڈیزائن میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں