الخلايا الدماغية (آيستوك)

جسم کے خلیات کیسے چھوٹے برقی جنریٹروں میں تبدیل ہوجاتے ہیں؟

خلیاتی جھلیوں کی حرکت دماغی اشاروں جیسی بجلی پیدا کرتی ہے: نئی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پی این اے ایس نیکسس نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ زندہ خلیات اپنی جھلیوں (membranes) کی حرکت کے ذریعے قدرتی طور پر برقی اشارے پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ ایسی دریافت ہے جو خلیات کے ایک دوسرے سے رابطے اور اپنے ماحول کو محسوس کرنے کے بارے میں ہماری سمجھ کو بدل سکتی ہے۔

اس تحقیق کی قیادت ڈاکٹر پردیپ شرما اور ان کی ٹیم نے کی جہاں انہوں نے ایک ریاضیاتی ماڈل تیار کیا جو خلیات میں ہونے والی حیاتیاتی سرگرمی کو بنیادی طبیعیاتی اصولوں سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلیاتی جھلیاں، جو ہر خلیے کو گھیرے ہوئے ہوتی ہیں اور اسے بیرونی ماحول سے الگ کرتی ہیں، اتنی ساکن نہیں ہیں جتنا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ ویب سائٹ ’’ scitechdaily ‘‘کے مطابق یہ پروٹین کی شکل میں تبدیلی اور توانائی کے کیمیائی ٹوٹ پھوٹ (ATP) کے تعاملات جیسے اندرونی افعال کے نتیجے میں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں۔

مالیکیولز کی حرکت سے بجلی کی پیدائش

محققین نے واضح کیا کہ جھلیوں کی یہ چھوٹی چھوٹی حرکتیں ایک طبیعیاتی اثر کے ذریعے برقی ردعمل پیدا کر سکتی ہیں جسے ’’ فلیکسو الیکٹرسٹی ‘‘کہا جاتا ہے جہاں جھلیوں کے مڑنے سے برقی چارج پیدا ہوتا ہے اور اس طرح جھلی کے آر پار وولٹیج کا فرق 90 ملی وولٹ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ اتنی ہی مقدار ہے جو دماغ میں اعصابی خلیات (نیوران) کے بھیجے جانے والے برقی اشاروں کی ہوتی ہے۔

آئنز کی قدرتی سمت کے خلاف منتقلی

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جھلیوں کی حرکت سے پیدا ہونے والے یہ برقی اشارے آئنز کو ان کے قدرتی بہاؤ کے مخالف سمت میں دھکیل سکتے ہیں جس سے خلیات کے اندر برقی چارجز کو فعال طریقے سے منتقل کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس کا دارومدار جھلی کی لچکدار اور برقی خصوصیات پر ہوتا ہے۔

واحد خلیات سے ٹشوز اور سمارٹ مواد تک

محققین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس تصور کو خلیات کے گروہوں تک وسعت دی جائے گی تاکہ یہ مطالعہ کیا جا سکے کہ جھلیوں کی اجتماعی سرگرمی ٹشوز کی سطح پر کس طرح برقی رویہ پیدا کر سکتی ہے۔ ٹیم کا ماننا ہے کہ یہ میکانزم اعصابی احساس اور اعصابی اشاروں کے اخراج کے بعض پہلوؤں کی وضاحت کر سکتا ہے اور یہ بجلی پیدا کرنے یا برقی اشاروں کو کنٹرول کرنے کے لیے زندہ خلیات سے متاثر ہو کر سمارٹ مواد کی تیاری میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں