التلوث بالبلاستيك (آيستوك)
نمک سمیت آپ کے روزمرہ کے کھانے میں پلاسٹک کے چھوٹے ذرات کے پانچ ذرائع
ایک شخص اپنے کھانے میں پلاسٹک کے چھوٹے ذرات (مائیکرو پلاسٹکس) بھی پا سکتا ہے، خاص طور پر سمندری غذا میں لیکن دیگر غذائی ذرائع سے ان کا سامنا اس سے زیادہ عام ہے جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔ سائنس الرٹ (Science Alert) کے مطابق مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ انسان روزانہ کھانے پینے سے صفر سے 1اعشاریہ 5 ملین چھوٹےذرات پلاسٹک استعمال کر لیتا ہے۔سب سے بڑا ماخذ غالباً بوتل بند پانی ہے۔ اس کے علاوہ کھانے پینے میں پلاسٹک کے چھوٹے ذرات کے پانچ سب سے حیران کن ذرائع یہ ہیں:
چیونگم :
جب کوئی شخص چیونگم چباتا ہے، تو وہ دراصل پلاسٹک کا ایک حصہ چبا رہا ہوتا ہے۔ زیادہ تر چیونگم پلاسٹک اور ربڑ کی بنیاد سے بنتی ہے، جس میں مٹھاس اور خوشبو شامل کی جاتی ہے۔ چبانے کے دوران یہ بنیاد خرد ذرات خارج کرتی ہے۔ ایک گرام چیونگم سے 637 تک خرد ذرات نکل سکتے ہیں۔
قدرتی چیونگم بھی اتنی ہی مقدار میں پلاسٹک کے چھوٹے ذرات خارج کرتی ہے۔ زیادہ تر ذرات ابتدائی آٹھ منٹ میں نکل جاتے ہیں، لہٰذا نئے ٹکڑے مسلسل چبانے کے بجائے ایک ہی ٹکڑا طویل عرصے تک چبانا بہتر ہے۔
نمک :
نمک بظاہر صاف اور سادہ نظر آتا ہے، لیکن مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر میں نمک کی 94فیصد مصنوعات پلاسٹک کے خرد ذرات سے آلودہ ہیں۔ سمندری نمک خاص طور پر ماحولیاتی آلودگی کا اشارہ ہے۔زمین سے حاصل ہونے والے نمک، جیسے ہمالیہ نمک، میں زیادہ آلودگی پائی گئی ہے۔ آلودگی کا بڑا حصہ پیداوار اور پیکنگ کے دوران ہوتا ہے۔
سیب اور گاجر:
مطالعے میں پلاسٹک کے چھوٹے ذرات کی موجودگی پھلوں اور سبزیوں میں بھی دیکھی گئی ہے۔ چھوٹے ذرات نباتات کی جڑوں سے بھی اندر جا سکتے ہیں اور بعض اوقات پھلوں اور سبزیوں کی سطح پر بھی پائے جاتے ہیں۔سیب اور گاجر سب سے زیادہ متاثر ہیں جبکہ سلاد کی سبزی کم متاثر ہوتی ہے۔ البتہ پروسیس شدہ کھانوں کے مقابلے میں پلاسٹک کے خرد ذرات کی مقدار کم ہوتی ہے۔
چائے اور کافی:
چائے کے بیگز پلاسٹک کے خرد ذرات کا واحد ماخذ نہیں ہیں، بلکہ چائے کے پتے، کافی اور دودھ بھی ان سے آلودہ ہو سکتے ہیں۔ایک بڑی وجہ پلاسٹک کے استعمال شدہ کپ ہیں، خاص طور پر گرم مشروبات میں۔ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے پلاسٹک کے ذرات مشروب میں منتقل ہو جاتے ہیں۔گرم مشروبات میں یہ ذرات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے سرد مشروبات استعمال کرنے سے آلودگی کم ہوتی ہے۔ اور شیشے کی بوتل میں دودھ خریدنے سے بھی پلاسٹک کے خرد ذرات کم ہوتے ہیں۔
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ اصول تمام مشروبات پر لاگو نہیں ہوتا۔ بوتل بند مشروبات پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ شیشے کی بوتل میں موجود سافٹ ڈرنک میں پلاسٹک کے خرد ذرات کی مقدار پلاسٹک کی بوتل کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے، ممکنہ وجہ شیشے کی بوتل کے دھات سے بنے ڈھکن کی پینٹنگ سے پیدا ہونے والا آلودگی ہے۔
کچھ چائے کے بیگز مکمل طور پر پلاسٹک سے آزاد بھی دستیاب ہیں، جہاں بند کرنے کے لیے حیاتیاتی طور پر تحلیل ہونے والے پلاسٹک کے بجائے کپاس استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم ان برانڈز کی شناخت مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی معیاری لیبلنگ سسٹم نہیں اور بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات کے اجزاء کھل کر ظاہر نہیں کرتیں۔عمومی طور پر، چھلنی چائے (loose leaf tea) کا استعمال اور دھات یا شیشے کے دوبارہ استعمال ہونے والے کپ استعمال کرنا گرم مشروبات میں پلاسٹک کے خرد ذرات کی آلودگی کم کرنے کی اچھی حکمت عملی ہے۔
سمندری غذا
اگرچہ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر سمندری غذا پلاسٹک کے خرد ذرات سے آلودہ ہوتی ہے، سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ سمندری غذا کو اس حوالے سے دوسرے غذائی ذرائع کے مقابلے میں زیادہ توجہ ملتی ہے۔ایک مطالعے کے مطابق ''فلٹر فیڈنگ '' کرنے والے جانوروں جیسے صدف میں پلاسٹک کے خرد ذرات کی سطح ہر گرام میں 2 سے 70 ذرات تک پائی گئی۔یہ مقدار کافی کم ہے جب اسے ایک کپ چائے کے مقابلے میں رکھا جائے، جہاں ایک پلاسٹک بیگ والے کپ میں تقریباً 11اعشاریہ6 بلین خرد ذرات پائے جا سکتے ہیں۔