النوبات القلبية
دل کا دورہ صرف دل تک محدود نہیں:تحقیق میں انکشاف
برسوں تک دل کے دورے کو صرف شریانوں کی بندش اور آکسیجن کی کمی سے جڑے ایک سادہ مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا رہا، مگر اب سائنس نے اس سوچ کو چیلنج کر دیا ہے۔ ایک نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ دل کا دورہ محض دل تک محدود نہیں بلکہ پورے جسم میں پیچیدہ ردِعمل کی ایک زنجیر کو جنم دیتا ہے، جو اس بیماری کی نوعیت اور علاج دونوں پر ازسرِنو غور کا تقاضا کرتی ہے۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ دل کا دورہ دراصل ایک پیچیدہ عمل ہے، جس میں دل، دماغ، اعصابی نظام اور مدافعتی نظام کے درمیان براہِ راست تعامل شامل ہوتا ہے۔یہ تحقیق جریدے Cell میں شائع ہوئی، جسے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے محققین نے انجام دیا۔
سائنسی ویب سائٹ MedicalXpress کی رپورٹ کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ دل کے دورے سے ہونے والا نقصان صرف شریانوں کی بندش کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ دماغ کی جانب سے متحرک ہونے والے اعصابی اور مدافعتی سگنلز اس نقصان کو مزید بڑھا دیتے ہیں، کیونکہ دماغ اسے ایک سنگین چوٹ کے طور پر لیتا ہے۔
محققین کے مطابق دل کے دورے کے دوران دل حواس کی طرح کام کرنے لگتا ہے، جہاں حسی اعصابی خلیے دل سے خطرے کے سگنلز عصبِ واگس کے ذریعے دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ دماغ ان اشاروں کو کسی بڑی جسمانی چوٹ کی طرح لیتا ہے اور دفاعی ردِعمل کے طور پر مدافعتی نظام کو فعال کر دیتا ہے۔
تاہم سائنس دانوں کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ دل کا دورہ کسی جراثیم یا انفیکشن کے باعث نہیں ہوتا، اس لیے یہ مدافعتی ردِعمل حد سے زیادہ اور غیر مؤثر ثابت ہوتا ہے، جو الٹا سوزش کو بڑھا دیتا ہے اور دل کے بافتوں کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
تین گنا دائرہ نقصان کو بڑھاتا ہے
محققین نے اس طریقۂ کار کو ''تین گنا دائرہ '' قرار دیا ہے، جو دل، دماغ اور اعصابی نظام اور مدافعتی نظام کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم کرتا ہے۔
حیوانی نمونوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ اعصابی یا مدافعتی سگنلز کو روک کر اس دائرے کو توڑنے سے دل کے دورے کے بعد دل کو پہنچنے والا نقصان نمایاں حد تک کم ہو گیا۔
تحقیق کے نگران کے مطابق دل کے دورے کو صرف دل تک محدود ایک واقعہ سمجھنے کے باعث دہائیوں تک ان اہم روابط کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ طبی علوم کی مختلف شعبوں میں تقسیم نے بھی اس پیچیدہ تعلق کی بروقت دریافت میں رکاوٹ ڈالی۔ اس وقت دل کے دورے کے علاج زیادہ تر جراحی یا ادویاتی طریقوں، جیسے اینجیوپلاسٹی، اسٹنٹس اور خون کو پتلا کرنے والی ادویات پر مشتمل ہیں، جو اگرچہ جان بچانے میں مؤثر ہیں، مگر نقصان کے تمام پہلوؤں کا ازالہ نہیں کرتیں۔
مطالعے کے مطابق مدافعتی ردِعمل یا اعصابی اشاروں میں محتاط اور متوازن مداخلت ایک نیا، کم جارحانہ علاجی راستہ کھول سکتی ہے، جو سوزش کو محدود کرے اور دل کے دورے کے بعد نقصان کے پھیلاؤ کو روک سکے۔
محققین نے اس عمل کو زلزلے کے مرکز پر قابو پانے سے تشبیہ دی ہے، تاکہ اس کے جھٹکے باقی بافتوں تک نہ پھیل سکیں۔
روشن اور امید افزا مستقبل
اگرچہ اس تین گنا دائرے کے دقیق طریقۂ کار پر تحقیق ابھی جاری ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ایسے جدید علاج کی راہ ہموار کرتی ہے جو روایتی طریقۂ علاج کے ساتھ معاون کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں، نہ کہ ان کے متبادل کے طور پر۔
محققین کو امید ہے کہ یہ نتائج دل کے دوروں سے وابستہ اموات اور طویل المدتی پیچیدگیوں میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوں گے، کیونکہ اس کے ذریعے دل کے دورے کو محض دل کی شریانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ کئی اہم جسمانی نظاموں کو متاثر کرنے والا ایک ہمہ گیر واقعہ سمجھ کر علاج کیا جا سکے گا۔
بالآخر یہ تحقیق دل کے دورے کی نئی تشریح پیش کرتی ہے اور اسے ایک پیچیدہ نظامی عمل قرار دیتی ہے، جو مستقبل میں اس کی تشخیص اور علاج کے طریقوں کو بدل سکتی ہے اور مریضوں کو بہتر صحت یابی اور مستقل نقصان سے بچاؤ کے زیادہ مواقع فراہم کر سکتی ہے۔