هشاشة العظام (آيستوك)

ورزش کے بغیر مضبوط ہڈیاں؟ نئی سائنسی دریافت نے امید جگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین ایک اہم سائنسی دریافت تک پہنچ گئے ہیں ،جو ہڈیوں کے بھربھرے پن (آسٹیوپوروسس) سے بچاؤ کے مستقبل کو بدل سکتی ہے۔

انہوں نے ایک ایسے پروٹین کی نشاندہی کی ہے، جو جسم کے اندر ’’ورزش کے حساس آلے‘‘ کے طور پر کام کرتا ہے اور ہڈیوں کو حقیقی جسمانی حرکت کے بغیر بھی سرگرمی کے فوائد حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔

جرنل Signal Transduction and Targeted Therapy میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق یہ پروٹین اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ حرکت کس طرح ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھتی ہے اور ساتھ ہی ایسے علاج تیار کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے جو سالماتی سطح پر ورزش کے اثرات کی نقل کر سکیں۔

یہ پیش رفت خاص طور پر بزرگ افراد اور ان مریضوں کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے جو حرکت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ہڈیوں کی کمزوری دنیا بھر میں صحت کے عام مسائل میں سے ایک ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پچاس سال سے زائد عمر کی ہر تین میں سے ایک عورت اور ہر پانچ میں سے ایک مرد کو کمزور ہڈیوں کے باعث فریکچر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ ہڈیاں بتدریج اپنی کثافت کھو دیتی ہیں اور زیادہ کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ہڈی کے گودے کے اندر ایسے خلیات موجود ہوتے ہیں جو یا تو ہڈی کے ٹشو میں تبدیل ہو سکتے ہیں یا چربی کے خلیات میں۔
عمر کے ساتھ یہ خلیات ہڈی بنانے کے بجائے زیادہ چربی پیدا کرنے لگتے ہیں، جس سے ڈھانچہ کمزور اور فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

جانوروں کے نمونوں اور انسانی خلیات پر کیے گئے تجربات کے دوران محققین نے Piezo1 نامی ایک پروٹین کی نشاندہی کی جو ہڈی کے گودے میں موجود بنیادی خلیات کی سطح پر پایا جاتا ہے۔

یہ ایک مکینیکل سینسر کے طور پر کام کرتا ہے، جو حرکت اور دباؤ سے پیدا ہونے والے سگنلز کو محسوس کرتا ہے۔جب جسمانی سرگرمی کے نتیجے میں یہ پروٹین متحرک ہوتا ہے تو یہ بنیادی خلیات کو چربی ذخیرہ کرنے کے بجائے ہڈی بنانے کی طرف مائل کرتا ہے، جس سے ہڈیوں کے بھاری پن میں کمی رک جاتی ہے۔

اس کے برعکس تجربات سے معلوم ہوا کہ Piezo1 کی عدم موجودگی میں ہڈی کے اندر چربی تیزی سے جمع ہونے لگتی ہے اور سوزش پیدا کرنے والے سگنلز خارج ہوتے ہیں، جو ہڈیوں کی صحت کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔

ادویات کے ذریعے ورزش کی نقل

تحقیق کے سربراہ ہانگ کانگ یونیورسٹی میں بایوفارماسیوٹیکل ٹیکنالوجی لیبارٹری کے ڈائریکٹر پروفیسر شو آئی من کا کہنا ہے کہ محققین نے ’’اس طریقۂ کار کو واضح کر دیا ہے جس کے ذریعے جسم حرکت کو مضبوط ہڈیوں میں تبدیل کرتا ہے‘‘۔


ان کے مطابق اس سالماتی سینسر کی شناخت نئی ادویات کی تیاری کے لیے ایک واضح ہدف فراہم کرتی ہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ Piezo1 کے راستے کو ادویات کے ذریعے متحرک کرنے سے ممکن ہو سکتا ہے کہ ’’جسم کو یہ دھوکا دیا جائے کہ وہ ورزش کر رہا ہے‘‘، حتیٰ کہ ایسے مریضوں میں بھی جو بڑھاپے دائمی بیماریوں یا طویل عرصے تک بستر پر رہنے کے باعث حرکت کے قابل نہیں ہوتے۔

فرانس اور چین سے تعلق رکھنے والے تحقیق میں شامل ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافت روایتی فزیوتھراپی سے آگے کی بات ہے اور مستقبل میں عمر سے جڑے ہڈیوں کے نقصان کو سست کر کے سب سے زیادہ کمزور طبقات میں فریکچر کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔

تحقیقی ٹیم اس وقت ان نتائج کو تجربہ گاہ سے کلینیکل آزمائشوں تک لے جانے پر کام کر رہی ہے، تاکہ ایسی ادویات تیار کی جا سکیں جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھیں اور معیارِ زندگی بہتر بنائیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں بڑھاپے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں