Screenshot 2026-02-27 033246
سعودی عرب: تعمیرنو میں بھی مسجد "قدیم التویم" کا معمارانہ طرز برقرار رکھا گیا
شہزادہ محمد بن سلمان منصوبے کا مقصد تاریخی مساجد کی قدر کا تحفظ اور ان کی تمدنی علامت کو اجاگر کرنا ہے
سعودی عرب میں شہزادہ محمد بن سلمان کا تاریخی مساجد کی ترقی کا منصوبہ مملکت کے مختلف علاقوں میں قدیم مساجد کی مرمت اور بحالی کے کام تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ تعمیر نو کا مقصد یہ ہے کہ ان مساجد کی مذہبی و ثقافتی موجودگی کو مستحکم کیا جا سکے اور ان کے اصل معمارانی تشخص کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ کام تاریخی مساجد کے تحفظ اور ان کی تمدنی اہمیت کو نمایاں کرنے کی قومی کوششوں کے فریم ورک اور سعودی "ویژن 2030" کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
منصوبے کے اہداف میں المجمعہ گورنریٹ کے قصبے التویم کے شمال میں واقع قدیم التویم مسجد بھی شامل ہے جو اس منصوبے کے تحت ترقیاتی کاموں کی فہرست میں شامل مساجد میں سے ایک ہے۔ اسے التویم کے ورثہ گاؤں کے فریم ورک کے اندر درج تاریخی عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ قصبے کی تاریخ میں گہری تعمیراتی اور ثقافتی قدر کی حامل ہے۔
یہ مسجد آٹھویں صدی ہجری (چودہویں صدی عیسوی) میں مدلج بن حسین الوائلی، ان کے بیٹوں اور قبیلے کے ہاتھوں اشیقر سے التویم منتقلی کے بعد قدیم نجدی طرز پر تعمیر کی گئی تھی۔ اس کا رقبہ 461 مربع میٹر ہے اور اپنی تعمیر کے وقت اس میں تقریباً 270 نمازیوں کی گنجائش تھی۔ اس سے قصبے کی مرکزی جامع مسجد کے طور پر اس کے مقام کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔
مختلف ادوار میں کئی ائمہ، شیوخ اور مورخین نے اس مسجد میں امامت اور خطابت کے فرائض سرانجام دیے جن میں نمایاں طور پر شیخ عمر بن محمد الفاخری، مورخ شیخ حمد بن محمد بن لعبون، مورخ شیخ محمد بن عمر الفاخری اور شیخ ابراہیم بن محمد الوہیبی شامل ہیں۔ یہ اس علاقے میں مسجد کے علمی اور دعوتی کردار کی اہمیت کی دلیل ہے۔ یہ مملکت بھر کی ان 130 قدیم مساجد میں سے ایک ہے جنہیں یہ منصوبہ نماز اور عبادت کے لیے تیار اور بحال کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جس میں 50 ملین ریال کی مجموعی لاگت سے 30 مساجد کی بحالی کی گئی۔ اس مرحلے کو ورثہ عمارتوں میں مہارت رکھنے والی سعودی کمپنیوں نے سعودی انجینئرز کی نگرانی میں انجام دیا۔ قدیم التویم مسجد اسی کامیابی کا حصہ تھی جہاں اس کی ترقی کا کام محرم 1441ھ مطابق ستمبر 2019ء میں مکمل ہوا۔
مسجد کی تعمیراتی ساخت ایسی معمارانہ تفصیلات سے ممتاز ہے جو نجدی تعمیرات کی اصلیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ "بیت القبلہ" یا نماز کا ہال مسجد کا مرکزی حصہ ہے۔ اس میں ایک مجوف محراب ہے جس کے بیچوں بیچ پتھروں سے بنا ایک سلنڈر نما ستون ہے جس پر پلستر کیا گیا ہے۔ اس کے اوپر محراب کی چھت کو سہارا دینے کے لیے دو مثلثی مہرابیں ہیں۔ اس کے شمالی و جنوب مشرقی کونوں میں دو دروازے ہیں۔
مسجد کا صحن نماز کے ہال اور "خلوہ" یا زیرِ زمین یا اندرونی ہال کے درمیان واقع ہے اور یہ رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹا حصہ ہے۔ اس میں نماز کے اوقات، مہینوں اور ستاروں کی پہچان کے لیے زمین میں نصب ایک شاخص اور کیلیں موجود ہیں۔ یہاں سے خلوہ کا محراب واضح نظر آتا ہے۔ خلوہ مسجد کے مشرقی جانب واقع ہے جو ایک محراب اور ستونوں کی دو قطاروں پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک دروازہ شمالی جانب گلی میں کھلتا ہے اور اس کی چھت سے دو سیڑھیاں نماز کے ہال کی چھت تک جاتی ہیں۔
شمال مشرقی کونے میں مینار کی بنیاد کے پاس ایک کھلا کمرہ ہے جس کے بارے میں غالب گمان ہے کہ اسے "کتاتیب" یعنی مدرسہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جو مسجد کے عبادتی کردار کے ساتھ ساتھ اس کے تعلیمی کردار کی بھی تصدیق کرتا ہے۔ مسجد کے جنوب مشرقی جانب وضو خانہ ہے جس میں ایک کنواں اور وضو کے لیے مشکیزے موجود ہیں اور ایک راہداری اسے مسجد کے صحن، جائے نماز اور خلوہ کے دروازے سے جوڑتی ہے۔
محافظہ المجمعہ میں ’’ قدیم التویم‘‘ مسجد کی ترقی، تاریخی مساجد کے تحفظ کی قومی کوششوں کے فریم ورک میں ایک اہم قدم ہے جو ان کی موجودگی کو تقویت دیتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ان کی مذہبی و تمدنی قدر کو راسخ کرتا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان منصوبہ چار سٹریٹجک اہداف پر مبنی ہے۔ تاریخی مساجد کو عبادت اور نماز کے لیے تیار کرنا، ان کی تاریخی تعمیراتی اصل کو بحال کرنا، سعودی عرب کے تمدنی پہلو کو اجاگر کرنا اور تاریخی مساجد کے مذہبی و ثقافتی مقام کو بڑھانا۔