بچوں کی پرورش (آئی سٹاک)

بچوں میں نفسیاتی لچک پیدا کرنے کے حیرت انگیز مشورے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

والدین فطرتی طور پر اپنے بچوں کو ہر قسم کی تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں لہٰذا وہ پہلی ہی مشکل پر مداخلت کر دیتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی مایوسیوں کو کم کرتے ہیں اور ناکامی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم ماہر اطفال ڈاکٹر کرسٹین کک کے مطابق یہ رویہ غیر ارادی طور پر زندگی کی سب سے اہم مہارت یعنی نفسیاتی لچک کی نشوونما کو روک سکتا ہے۔

نفسیاتی لچک کے مفہوم کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ایسے بچوں کی پرورش کرنا نہیں ہے جو متاثر نہ ہوں یا ہر چیز سے آسانی سے گزر جائیں بلکہ یہ مشکلات کا سامنا کرنے، جذبات کو منظم کرنے اور دوبارہ بحال ہو کر آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے۔ یہ محض اس بات کا احساس ہے کہ یہ مشکل ہے، لیکن میں اس سے نمٹ سکتا ہوں۔

لچک مستقل مزاجی سے مختلف ہے۔ مستقل مزاجی ایک فطری صفت ہے جس کا مطلب چیلنجز کے باوجود جاری کام رکھنا ہوتا ہے، جبکہ لچک ایک سیکھی ہوئی مہارت ہے جو مطابقت پیدا کرنے اور بحالی کی صلاحیت سے متعلق ہے۔ لچک کے بغیر مستقل مزاج بچہ کوشش جاری رکھ سکتا ہے لیکن وہ زیادہ تناؤ اور تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے جبکہ لچکدار بچہ جانتا ہے کہ کب رکنا ہے، کب دوبارہ جائزہ لینا ہے اور کب نئے طریقے آزمانے ہیں۔

لچک کی تعمیر کا آغاز بچپن سے

لچک کے آثار بچپن کے ابتدائی برسوں سے ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان آثار میں مایوسی برداشت کرنے کی صلاحیت یا ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرنا شامل ہے۔ اس عرصہ میں والدین جو سب سے اہم کام کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ بچے کو کچھ معمولی مشکلات کا سامنا کرنے دیں۔ فوری مداخلت یہ پیغام دیتی ہے کہ پریشانی ناقابل قبول ہے۔ یاد رہے مسئلہ حل کیے بغیر مدد فراہم کردینا بچے کی اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کو بڑھاتا ہے۔

بچوں کی ہرورش

جذبات سے نمٹنا بھی اس میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ کسی جذبے کو محض نام دینا، جیسا کہ یہ کہنا کہ "تم ابھی مایوسی محسوس کر رہے ہو" بچے کو اسے فوری حل کیے بغیر سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور اسے سکھاتا ہے کہ یہ احساسات عارضی ہیں اور ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ سکول میں داخلے کے ساتھ ہی تعلیمی اور سماجی چیلنجز بچے کی اپنی ذات کے بارے میں تصویر پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں۔ یہاں والدین کو براہ راست حل پیش کرنے کے بجائے رہنمائی کی طرف منتقل ہونا چاہیے اور ایسے سوالات پوچھنے چاہئیں جو سوچنے کی ترغیب دیں۔ مثال کے طور پر پوچھا جا سکتا ہے ’’ تم اس کے لیے کیا کوشش کر سکتے ہو؟ ‘‘ ۔ غلطیوں کو قبول کرنا بھی ضروری ہے۔ جب بچہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ غلطی سیکھنے کا ایک قدرتی حصہ ہے تو وہ بغیر کسی خوف کے کوشش کرنے کے لیے زیادہ تیار ہو جاتا ہے۔

قدرتی نتائج کی اہمیت

بچے کو اس کے اعمال کے نتائج کا سامنا کرنے دینا، جیسے ہوم ورک بھول جانا یا کسی شرمندگی والی صورتحال کا سامنا کرنا، والدین کے لیے مشکل ہو سکتا ہے لیکن یہ اہم سبق فراہم کرتا ہے۔ ہر وقت مداخلت کرنا بچے کو سیکھنے کے موقع سے محروم کر دیتا ہے۔ اسے بچائے بغیر مدد فراہم کرنا اس کے خود اعتمادی کو مضبوط کرتا ہے۔ لچک لڑکپن میں زیادہ اہم ہو جاتی ہے جب تعلیمی اور سماجی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہاں والدین کا کردار رہنمائی سے بدل کر مدد فراہم کرنے تک محدود ہو جاتا ہے۔ فوری حل پیش کیے بغیر بات سننا نوعمر کو سوچنے اور فیصلہ کرنے کی جگہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے جذبات پر فیصلہ سنائے بغیر انہیں تسلیم کرنا اس کے خود اعتمادی اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔

آخر کار بچوں کو لچک "تحفے" میں نہیں دی جا سکتی بلکہ وہ اسے تجربے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ والدین کا کردار مشکلات کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ ان کے دوران بچوں کا ساتھ دینا ہے۔ مقصد ایسے بچوں کی پرورش کرنا نہیں ہے جنہیں چیلنجز کا سامنا نہ ہو بلکہ ایسے بچے تیار کرنا ہے جو ان پر قابو پانے اور ان سے زیادہ مضبوط اور پر اعتماد ہو کر نکلنے پر یقین رکھتے ہوں۔۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں