(Unsplash) صورة تعبيرية عن الذكاء الاصطناعي

مصنوعی ذہانت میں طبی تشخیص کا خطرناک خلل، نئی تحقیق نے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مستقبل میں ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے ممکن ہے کہ مریض ایک مصنوعی ذہانت کے نظام کے سوالات کے جوابات دیں۔

انہی جوابات کی بنیاد پر یہ نظام اندازہ لگا سکتا ہے کہ آیا حالت ہنگامی ہے یا علاج کو مؤخر کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ مریض کے لیے ملاقات کا وقت بھی طے کر سکتا ہے۔

اگرچہ یہ مستقبل ابھی دور محسوس ہوتا ہے، لیکن صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ پہلے ہی اسی سمت میں بڑھ رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اور ڈیجیٹل علامات جانچنے والے ٹولز تیزی سے مریضوں کے لیے پہلا رابطہ بن رہے ہیں، جہاں وہ ابتدائی خود تشخیص کرتے ہیں اور کسی ماہر ڈاکٹر کی مداخلت سے پہلے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، جیسا کہ SciTechDaily کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔

دوسری جانب محققین ایک اہم سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں: کیا لوگ مشینوں سے اسی طرح بات کرتے ہیں، جیسے وہ ڈاکٹروں سے کرتے ہیں؟
اس سوال کے ممکنہ نتائج بہت اہم ہیں، کیونکہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظام بھی صرف اسی وقت قابلِ اعتماد نتائج دے سکتے ہیں، جب مریض درست اور مکمل معلومات فراہم کریں۔

500 شرکاء

ایک نئی تحقیق جو جریدے Nature Health میں شائع ہوئی، میں اس مسئلے کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق کی قیادت یونیورسٹی آف فورٹسبرگ کے پروفیسر ولفریڈ کونڈی اور شریک محقق مورٹز رائس نے کی۔

اس میں برلن کے شاریٹے یونیورسٹی ہسپتال، یونیورسٹی آف کیمبرج، ہیلیوس کلینیکم ایمیل فون بیرنگ ہسپتال اور ویوانتس کلینیکم نوی کولن کے سائنسدانوں نے بھی حصہ لیا۔

رائس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق میں شامل 500 شرکاء سے کہا گیا کہ وہ دو عام حالات کی علامات پر مبنی فرضی رپورٹس تیار کریں: غیر معمولی سر درد اور فلو جیسی علامات۔شرکاء کو بتایا گیا کہ ان کی رپورٹس کا جائزہ یا تو مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ لے گا یا ایک انسانی ڈاکٹر۔

اس کے بعد محققین نے یہ جانچا کہ یہ رپورٹس طبی لحاظ سے کس حد تک مفید ہیں اور ان سے مریض کی حالت کی شدت کا اندازہ لگانے میں کتنی مدد ملتی ہے۔

واضح رجحان

نتائج سے ایک واضح رجحان سامنے آیا۔ جب شرکاء کو لگا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے بات کر رہے ہیں، تو انہوں نے اپنی علامات کی تفصیل کم اور طبی لحاظ سے کم مفید انداز میں بیان کی، اس کے مقابلے میں جب وہ اپنی رپورٹس ماہرینِ صحت کے لیے لکھ رہے تھے۔

یہی رجحان ان شرکاء میں بھی دیکھا گیا ،جو پہلے ہی سوالنامے میں درج علامات کا تجربہ کر رہے تھے۔یہ فرق دی گئی تفصیلات کی مقدار میں بھی نظر آیا۔

طبی ماہرین کے لیے لکھی گئی رپورٹس کا اوسط طول 255اعشاریہ6 حروف تھا، جبکہ چیٹ بوٹس کے لیے لکھی گئی رپورٹس کا اوسط 228اعشاریہ7 حروف رہا۔

حقیقی نتائج

اگرچہ 28 حروف کا یہ فرق معمولی لگ سکتا ہے، مگر محققین کے مطابق اس کے حقیقی نتائج نکل سکتے ہیں۔ کیونکہ جدید مصنوعی ذہانت کے نظام بھی تبھی درست طبی مشورہ دے سکتے ہیں ،جب مریض اہم تفصیلات کو نظرانداز نہ کریں۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق ڈیجیٹل صحت کے تجزیوں کی مؤثریت صرف کمپیوٹنگ طاقت پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ صارف اپنی علامات کو کس حد تک مکمل اور درست انداز میں بیان کرتا ہے۔

محققین کے خیال میں اس ہچکچاہٹ کی ایک بڑی وجہ ''انفرادیت کی نظراندازی'' ہے۔ کونڈی کے مطابق بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ان کی ذاتی حالت کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتی اور صرف عمومی نمونوں سے نتیجہ اخذ کرتی ہے۔

اسی طرح رازداری کے خدشات اور الگورتھم پر مبنی تشخیص پر عدم اعتماد بھی لوگوں کو نامکمل یا غیر واضح معلومات دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔

رائس نے اس مسئلے کو یوں بیان کیا: اگر ہمیں یقین نہ ہو کہ مشین ہماری انفرادیت کو سمجھ سکتی ہے، تو ہم غیر ارادی طور پر اسے وہ معلومات نہیں دیتے جو درست مدد کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ نتیجتاً اہم طبی تفصیلات نظام تک نہیں پہنچ پاتیں، جس سے تشخیص کا معیار متاثر ہوتا ہے۔

فالو اپ سوالات

محققین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ صرف مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوگا۔

ان کے خیال میں بہتر یوزر انٹرفیس ڈیزائن بھی ضروری ہے تاکہ مریضوں اور ڈیجیٹل نظاموں کے درمیان رابطہ زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

علامات کی بہتر رپورٹنگ کے لیے ٹیم تجویز کرتی ہے کہ ڈویلپرز صارفین کو واضح اور معیاری تفصیلی مثالیں فراہم کریں اور ایسے AI نظام تیار کریں جو معلومات کی کمی کی صورت میں خود سے فالو اپ سوالات پوچھیں۔

اس کے علاوہ مریضوں کو زیادہ مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ترغیب دینا بھی ضروری ہے، تاکہ غلط تشخیص کے امکانات کم ہوں اور صحت کے نظام پر دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں