تعبيرية عن النوم الجيد - آيستوك
خواب میں بار بار باتیں یاد آنے کی اصل وجہ کیا ہے؟
جب سونے کا وقت ذہن کے لیے ایک فعال سوچ اور بے چینی کا میدان بن جائے، تو دماغ بعض اوقات رات کے17: 2 جیسے اوقات میں بھی گہری خود احتسابی میں چلا جاتا ہے، جو بہت سے لوگوں کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
Psychology Today کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ تکرار اکثر اگلے دن کے کسی اجلاس یا ختم نہ ہونے والی ذمہ داریوں کے بارے میں نہیں ہوتی، بلکہ کسی ایسی گفتگو کے بارے میں ہوتی ہے ،جو تین دن پہلے کسی دوست کے ساتھ ہوئی تھی۔
اچانک وہ الفاظ ذہن میں بار بار گونجنے لگتے ہیں، جو اس گفتگو میں استعمال کیے گئے تھے۔دماغ اس دوران کوئی پرانی بات، کوئی غیر مؤثر مذاق جو ہنسی نہ لا سکا، یا کوئی ایسا شرمناک لمحہ دوبارہ چلا دیتا ہے جسے انسان بدلنا چاہتا ہے۔ اسی طرح وہ ملاقات بھی یاد آ سکتی ہے ،جس میں شرکت ضروری تھی مگر وہ رہ گئی۔
ایک مختلف نقطۂ نظر
زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف بے چینی یا حد سے زیادہ سوچنے کا نتیجہ ہے، لیکن ماہرینِ نفسیات اس کی ایک مختلف وضاحت پیش کرتے ہیں۔ان کے مطابق دماغ ماضی کو دوبارہ لکھنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ وہ دراصل مستقبل کی تیاری کر رہا ہوتا ہے اور پچھلے تجربات سے سیکھ کر آئندہ بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
دماغ ایک پیشگو مشین
لوگ عموماً سمجھتے ہیں کہ یادداشت ایک فائلنگ کیبنٹ کی طرح ہے، جہاں ماضی کے واقعات محفوظ کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن اعصابی سائنس دان اس تصور کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق یادداشت دراصل دماغ کے لیے مستقبل کی پیشگوئی کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔جب دماغ بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کرتا ہے ،تو وہ ماضی کے تجربات کی طرف واپس جاتا ہے تاکہ ان سے سیکھ سکے۔ہر شرمندہ کرنے والا یا غلط سماجی تجربہ دماغ کے لیے ایک نئی معلومات بن جاتا ہے۔
اسی طرح ہر غیر آرام دہ تجربہ بھی ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سماجی غلطی اگلی بار کسی دوست سے گفتگو کے لیے ایک طرح کی ٹریننگ بن جاتی ہے۔اسی دوران دماغ خود سے سوال کرتا ہے: کیا ہوا تھا؟ مجھ سے کیا چھوٹ گیا؟ اگلی بار میں کیا مختلف کر سکتا ہوں؟اس کا مقصد انسان کو شرمندہ کرنا یا رات بھر جاگتا رکھنا نہیں ہوتا، بلکہ اسے بہتر بنانا اور آئندہ کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔
رات میں آواز زیادہ کیوں محسوس ہوتی ہے
جب انسانی جسم آرام کی حالت میں ہوتا ہے ،تو دماغ کا ایک خاص نیٹ ورک، جسے ''ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک'' کہا جاتا ہے، زیادہ سرگرم ہو جاتا ہے۔ یہ نیٹ ورک یادداشت، خود احتسابی، خیالی منظرنامے بنانے اور مستقبل میں ممکنہ حالات کی ذہنی نقل تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے جیسے دماغ کے اندر ایک منصوبہ بندی کرنے والی کمیٹی رات بھر اگلے دن کی تیاری میں مصروف ہو۔اس نظام کا بنیادی مقصد مثبت اور مفید ہے، کیونکہ یہ سیکھنے اور بہتری میں مدد دیتا ہے۔
دماغ کا کنٹرول سینٹر انسان کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن بعض اوقات یہی کنٹرول سینٹر سوچ کو روکنے میں ناکام رہتا ہے۔ اس صورت میں بار بار منفی خیالات جنم لیتے ہیں، جسے ''رومینیشن'' کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت اکثر بے چینی اور ذہنی دباؤ سے جڑی ہوتی ہے کیونکہ دماغ مسئلے کے حل کے بجائے انہی مسائل پر زیادہ توجہ دینے لگتا ہے۔
منفی سوچ پر قابو پانا
یہ تبدیلی انسان کو ذہنی طور پر فاصلے پر رہنے کی عادت سکھاتی ہے۔ منفی پہلوؤں پر مسلسل توجہ دینے کے بجائے، ذہن کو اس طرف منتقل کیا جا سکتا ہے کہ اس تجربے سے کیا سبق ملا۔ اس طرح انسان بار بار ایک ہی بات دہرانے (اجترار) کے بجائے غور و فکر کی کیفیت میں داخل ہوتا ہے، جو جذباتی مضبوطی، بہتر کنٹرول اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔
جب سیکھے گئے سبق کو لکھ لیا جائے تو دماغ کا ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک اپنی مسلسل ''تلاش'' کے عمل کو وقتی طور پر روک دیتا ہے۔ لکھنے کا عمل دماغ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ضروری معلومات محفوظ ہو چکی ہیں، جس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور غیر ضروری سوچ کا سلسلہ بھی کم ہو جاتا ہے۔