غذاء - تعبيرية

مالی خودمختاری سے محرومی خواتین میں غذائی قلت کا باعث بنتی ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں خواتین کی مصروفیات ماضی کے مقابلے میں بڑھ گئی ہیں، جبکہ ان کے پاس نہ تو مناسب مالی وسائل موجود ہیں اور نہ ہی مالی خودمختاری جس کے نتیجے میں وہ بالآخر ناقص غذائیت کا شکار ہو جاتی ہیں۔

دنیا بھر میں خواتین غذائی قلت کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ تولیدی عمر کی دو تہائی سے زیادہ خواتین کو کم از کم ایک ضروری خرد غذائی عنصر (Micronutrient) مناسب مقدار میں نہیں ملتا۔

ان عناصر میں آئرن سمیت مختلف وٹامنز اور معدنیات شامل ہیں، جن کی جسم کو صحت برقرار رکھنے کے لیے اگرچہ کم مقدار میں ضرورت ہوتی ہے، مگر ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

ماہرین انسان میں ان ضروری غذائی عناصر کی کمی کو ''پوشیدہ بھوک'' (Hidden Hunger) قرار دیتے ہیں۔

اس کیفیت میں بظاہر انسان پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے صحت مند رہنے کے لیے درکار بنیادی وٹامنز اور معدنیات مناسب مقدار میں نہیں ملتے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تخصصی ویب سائٹ ''دی کنورسیشن'' (The Conversation) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں اور دہائیوں کے دوران خواتین میں خون کی کمی (انیمیا) کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2012 سے اب تک خواتین میں انیمیا کی شرح 28 فیصد سے بڑھ کر 31 فیصد ہو چکی ہے۔

خون کی کمی (انیمیا) آئرن کی کمی سے پیدا ہونے والی ایک طبی کیفیت ہے، جس میں خون کے سرخ خلیات کی تعداد یا ان کے اندر موجود ہیموگلوبن کی مقدار معمول سے کم ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر خواتین اور بچوں کو متاثر کرتی ہے۔

خوراک کے عدم تحفظ (Food Insecurity) کے حوالے سے خواتین اور مردوں کے درمیان فرق بھی بڑھ رہا ہے، خاص طور پر افریقہ کے صحرائے اعظم کے جنوبی خطے (سب صحارا افریقہ) میں جہاں تولیدی عمر کی تقریباً 80 فیصد خواتین ضروری خرد غذائی اجزا (Micronutrients) کی کمی کا شکار ہیں۔

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق عالمی غذائیت صحتِ عامہ اور منصفانہ غذائی نظام پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی ایک جامع اور منظم سائنسی جائزہ رپورٹ میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ جن خواتین کو مالی خودمختاری حاصل نہیں ہوتی اور جن کے پاس مناسب وقت بھی نہیں ہوتا، وہ ناقص غذائیت کا شکار ہونے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتی ہیں۔

اس جامع جائزے (Scoping Review) میں کم اور متوسط آمدنی والے 125 ممالک میں کی گئی 518 مطالعات کا تجزیہ کیا گیا۔

ماہرین نے 143 ایسے عوامل کی نشاندہی کی جو خواتین کی غذائی عادات اور ان کے کھانے کے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتیجے میں شواہد پر مبنی پہلا ایسا فریم ورک تیار کیا گیا، جس میں خواتین کے ''غذائی ماحول'' (Food Environments) کی وضاحت کی گئی ہے، یعنی وہ تمام عوامل جو ان کی غذا کے معیار اور غذائی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔

تحقیق کا مرکزی نتیجہ خاص طور پر توجہ طلب تھا: خواتین کی غذائی کیفیت کا سب سے اہم تعین کرنے والا عنصر خوراک کی دستیابی یا گھریلو آمدنی نہیں، بلکہ ''فیصلہ سازی کی صلاحیت'' (یا مالی خودمختاری) ہے۔

اس سے مراد یہ ہے کہ عورت کو خوراک کے انتخاب، گھریلو مالی وسائل پر کنٹرول اپنے وقت کے انتظام اور نقل و حرکت کی آزادی جیسے معاملات میں کتنا اختیار حاصل ہے۔

محققین نے یہ سوال اٹھانے کی کوشش کی کہ محدود وسائل والے علاقوں—مثلاً افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا و بحرالکاہل کے خطوں—میں خواتین مناسب مقدار میں مخصوص غذائیں کیوں استعمال نہیں کرتیں؟

ماہرین کے مطابق اس کا جواب اکثر یہ ہوتا ہے کہ خوراک پر خرچ کے فیصلے مرد یا گھر کے بڑے افراد کرتے ہیں، جبکہ سماجی روایات کے تحت کھانے میں ترجیح گھر کے دیگر افراد کو دی جاتی ہے۔کم عمر خواتین جو نسبتاً کم سماجی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔

ان کے پاس مالی وسائل پر کم کنٹرول ہوتا ہے، غیر معاوضہ گھریلو کاموں کی وجہ سے وقت کی کمی ہوتی ہے اور نقل و حرکت کی آزادی بھی محدود ہوتی ہے۔

تاہم اس جائزے میں مثبت رجحانات بھی سامنے آئے۔ وہ خواتین جن کے مضبوط سماجی روابط تھے،یعنی خاندان، دوست اور پڑوسی قریب موجود تھے،ان کی غذائی حالت بہتر پائی گئی۔

ان سماجی روابط نے خوراک کی فراہمی، کھانا پکانے اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے کاموں کے بوجھ کو بانٹنے میں مدد فراہم کی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں