الزهايمر (آيستوك)

سونے کی عادات اور جینز الزائمر میں مبتلا ہونے کی رفتار تیز کر سکتے: تحقیق

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علمی کارکردگی کے نمونے لوگوں میں مختلف ہوتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کی ایڈتھ کووان یونیورسٹی کی ایک نئی سائنسی تحقیق نے جینز اور سونے کی عادات کے درمیان ایک اہم تعلق کا انکشاف کیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ دونوں مل کر دماغی اور علمی تبدیلیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جو علامات ظاہر ہونے سے بہت پہلے الزائمر کی بیماری سے وابستہ ہوتی ہیں۔

ایکواپورین 4 جین

نیو ز ویب سائٹ ’’ نیوروسائنس‘‘کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ایڈتھ کووان یونیورسٹی کے سنٹر فار پریسجن ہیلتھ کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں ایکواپورین 4 جین پر توجہ مرکوز کی گئی جسے مختصراً AQP4 کہا جاتا ہے۔ یہ جین دماغ میں سیال مادوں کی حرکت کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ عمل دماغ کے اندرونی فضلے کو خارج کرنے والے نظام کو سپورٹ کرتا ہے جو رات کے وقت اپنی سرگرمی کے عروج پر ہوتا ہے اور مانا جاتا ہے کہ یہ الزائمر کی بیماری سے منسلک پروٹینز سے چھٹکارا پانے میں مدد کرتا ہے۔

گرے میٹر کا نقصان

محقق ڈاکٹر عائشہ ملیگن آرمسٹرانگ نے کہا کہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ افراد جو AQP4 جین کی مخصوص اقسام کے حامل ہیں۔ انہوں نے گرے میٹر کے تیزی سے نقصان کا مظاہرہ کیا جب انہوں نے کم نیند کی اطلاع دی۔ معاملہ صرف ان جینز تک محدود نہیں ہے جو انسان کے اندر موجود ہیں بلکہ یہ اس بات تک پھیلا ہوا ہے کہ یہ جینز اپنے اردگرد کی دنیا کے ساتھ کس طرح تعامل کرتے ہیں۔

ایک ہی جینیاتی قسم کسی شخص کی نیند کے انداز کی بنیاد پر حفاظتی یا نقصان دہ دکھائی دے سکتی ہے۔ یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ نیند ان چند قابلِ تغیر عوامل میں سے ایک ہے جس پر افراد اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

13 عام جینیاتی اقسام

محققین کی ٹیم نے AQP4 جین کی 13 عام اقسام، نیند کے خود بتائے گئے انداز، دماغ کے سکینز اور علمی کارکردگی کا مطالعہ کیا۔ کچھ شرکاء کے لیے نیند کا کم دورانیہ گرے میٹر کے تیز تر نقصان سے منسلک تھا۔ دوسرے جنہوں نے بتایا کہ انہیں سونے میں زیادہ وقت لگتا ہے، انہوں نے دماغی ساخت میں ایسی تبدیلیاں دکھائیں جو اس کے حجم میں کمی سے وابستہ ہیں۔

مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نیند کے عارضے میں مبتلا لوگوں میں وقت کے ساتھ ساتھ علمی کارکردگی کے نمونے مختلف ہوتے ہیں اور اثر کی سمت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ شخص AQP4 کی کون سی قسم کا حامل ہے۔

نیند کی کمی اور الزائمر

محقق ڈاکٹر ٹینیل پورٹر نے کہا کہ یہ کچھ عرصے سے معلوم ہے کہ نیند کی کمی اور الزائمر کی بیماری کا خطرہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ فرض کرنے کے بجائے کہ خطرے سے دوچار تمام لوگ ایک ہی راستے پر چلتے ہیں، الزائمر کی روک تھام کے لیے زیادہ باریک بین اور ذاتی نوعیت کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ لیکن نتائج ابھی جینیاتی ٹیسٹ کرانے کی سفارش کے مرحلے تک نہیں پہنچے کیونکہ اس معاملے کو بڑے اور زیادہ متنوع گروپس میں تصدیق کی ضرورت ہے۔

پریسجن ہیلتھ کا جوہر

سینٹر فار پبلک ہیلتھ کے ڈائریکٹر پروفیسر سائمن لوز نے کہا کہ نتائج ہمیں یہ سمجھنے کے قریب لاتے ہیں کہ کچھ لوگوں کی حالت دوسروں کے مقابلے میں تیزی سے کیوں بگڑتی ہے۔ یہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب ظاہری طور پر ان کا خطرے کی سطح ایک جیسی ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریسجن ہیلتھ کا جوہر ان لوگوں کی نشاندہی کرنے میں ہے جنہیں سب سے زیادہ خطرہ ہے اور جن کے طرزِ زندگی کی مداخلتوں سے فائدہ اٹھانے کا زیادہ امکان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الزائمر کے خطرے سے دوچار تمام لوگوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں