تحذير من نشر صور الأطفال على الإنترنت (تعبيرية - آيستوك)

والدین کے لیے انتباہ ... اپنے بچوں کی تصاویر انٹرنیٹ پر پوسٹ نہ کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تصاویر انٹرنیٹ پر شیئر نہ کریں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ انتباہ ایجنسی کی جانب سے انٹرنیٹ مانیٹرنگ باڈی کے تعاون سے تیار کردہ نئی ہدایات کا حصہ ہے۔ اس آگاہی مہم کا مقصد والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کو اے آئی کے ذریعے تیار کردہ جعلی جنسی مواد کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بچانا ہے۔ یہ اقدام ایک برطانوی اسکول کو مجرمانہ گروہوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے اسکول کے طلبہ کی عوامی سطح پر دستیاب تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے اے آئی کے ذریعے جعلی جنسی تصاویر بنائیں اور پھر انہیں بلیک میل کرکے رقوم کا مطالبہ کیا۔

یہ انتباہ ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی حفاظت کے لیے مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ نقصان دہ مواد، جنسی استحصال اور آن لائن بلیک میلنگ کے مسلسل خطرات کے پیش نظر، کئی حکومتیں بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندیاں سخت کرنے اور کنٹرول کے اقدامات کرنے پر مجبور ہوئی ہیں تاکہ نا بالغوں کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کیا جا سکے۔

حال ہی میں برطانوی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کی متعدد آن لائن پلیٹ فارمز تک رسائی روکنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے تاکہ انہیں نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھا جا سکے اور اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال کو محدود کیا جا سکے۔ اسی طرح کینیڈا، برازیل اور انڈونیشیا نے بھی بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی پر عمر کی قید عائد کرنے والے قوانین منظور کیے ہیں یا اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ ان کی حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے قوانین کو سخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

دریں اثنا انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نقصان دہ مواد کے تیزی سے پھیلاؤ نے اقوام متحدہ کو بھی خبردار کرنے پر آمادہ کیا ہے کہ بچوں کو استحصال اور ڈیجیٹل بلیک میلنگ سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ بچے اب جنسی ترغیب، ڈیپ فیک ٹیکنالوجیز اور سائبر بلنگ جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اے آئی مجرموں کو بچوں کے رویے کا تجزیہ کرنے اور انہیں پھنسانے کے لیے زیادہ جدید ٹولز فراہم کر رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق یہ رجحان تشویش ناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ سال 2025 میں چائلڈ لائٹ گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات 2023 میں 4,700 سے بڑھ کر 2024 میں 67 ہزار سے زائد ہو گئے ہیں۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق 2023 میں دنیا کے 12.6 فی صد بچے (تقریباً 30.2 کروڑ افراد) بنا رغبت جنسی گفتگو یا مواد کا شکار ہوئے، جبکہ تقریباً اتنی ہی تعداد آن لائن جنسی ترغیب کا شکار بنی۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ تصاویر شیئر کرنے سے حساس نجی معلومات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں جنہیں مجرم استعمال کر سکتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں