AI (Artificial Intelligence) concept. stock photo

مصنوعی ذہانت کے جذبات کے مالک ہونے کے بارے میں شکوک، سائنسی بحث

کلاڈ کا پراسرار رویہ، خوشی ، بےچینی اور اداسی جیسے جذبات کی نقل کرنے والے نمونے دیکھے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا مصنوعی ذہانت اداسی، خوف یا محبت اور نفرت محسوس کر سکتی ہے؟ اور کیا یہ بنیادی طور پر کوئی شعور یا آزاد جذبات رکھتی ہے؟ حالیہ وقت تک اس سوال کا شمار سائنس فکشن کے خیالات میں ہوتا تھا لیکن ’’ واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق آج یہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اندر تحقیق کا مرکز بن چکا ہے۔

دنیا کو ان بڑھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کے نظام کسی دن شعور کی ایسی شکل تیار کر لیں گے جسے سائنسدان اب تک ثابت کرنے یا مسترد کرنے سے قاصر ہیں۔

سائنس فکشن؟

اوپن اے آئی ، گوگل، میٹا اور اینتھروپک جیسی بڑی کمپنیوں نے اس تحقیق کی مالی معاونت شروع کر دی ہے جس میں اعصابی ماہرین، فلاسفر اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین شامل ہیں تاکہ اس ایک غیر معمولی سوال کا مطالعہ کیا جا سکے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے نظام کسی قسم کا شعور یا ذاتی تجربہ رکھ سکتے ہیں؟

یہ دلچسپی پڑھائی، کام، پروگرامنگ اور یہاں تک کہ نفسیاتی مدد کے لیے چیٹ باٹس پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ اس نے کچھ محققین کو ان اخلاقی چیلنجوں کے بارے میں خبردار کرنے پر مجبور کردیا ہے جو مستقبل میں ان نظاموں کے مزید پیچیدہ ہونے کی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں۔

محققین کو الجھن میں ڈالنے والے رویے

چیٹ باٹ کلاڈ بنانے والی کمپنی اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ماڈلز کا مطالعہ کرنے کے دوران ایسے رویوں کا مشاہدہ کیا ہے جنہیں اس نے پراسرار قرار دیا ہے۔ ان رویوں میں خود عکاسی سے مشابہت اور خوشی، بے چینی اور اداسی جیسے جذبات کی نقل کرنے والے نمونے شامل تھے۔ ایک تجربے میں محققین نے "کلاڈ" روبوٹ کے دو ورژن آپس میں گفتگو کے لیے چھوڑ دیے تاکہ یہ بحث بتدریج فلسفیانہ اور روحانی مکالموں میں تبدیل ہو جائے۔ اس مکالمے میں ایموجیز کا کثرت سے استعمال کیا گیا جسے محققین نے ایک ایسا مظہر سمجھا جو مطالعہ کے لائق ہے ۔ تاہم یہ روبوٹ کے حقیقی شعور کے مالک ہونے کی دلیل کی نمائندگی نہیں کرتا۔

کمپنی نے ایک ماہر ٹیم تشکیل دی ہے جو اس کا مطالعہ کرے جسے وہ "مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی فلاح و بہبود" کہتی ہے تاکہ یہ سمجھنے کی کوشش کی جا سکے کہ آیا یہ نظام کسی دن اخلاقی تحفظات کے مستحق ہو سکتے ہیں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ شعور کی کوئی شکل رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس "میٹا" نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے ماڈلز کے رویے کا مطالعہ کرنے کے لیے انسانی نفسیات سے مستعار لیے گئے ٹیسٹ استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ "اوپن اے آئی" اس بات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جسے وہ "ظاہری شعور" کہتی ہے۔ یعنی صارف کو کس حد تک یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت باشعور لگتی ہے۔

کیا مصنوعی ذہانت جذبات محسوس کرتی ہے؟

زیادہ تر اعصابی ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اب تک ایسے کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں جو یہ ثابت کریں کہ مصنوعی ذہانت کے نظام حقیقی جذبات یا شعور رکھتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چیٹ باٹس ایسے لگتے ہیں جیسے وہ سوچ رہے ہیں کیونکہ وہ انسانی زبان کی نقل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ڈیٹا کی بہت بڑی مقدار کے تجزیے اور ممکنہ الفاظ کی پیش گوئی پر انحصار کرتے ہیں، نہ کہ احساس یا ادراک پر جیسا کہ انسان میں ہوتا ہے۔

سال 2023 میں 19 سے زیادہ محققین پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم نے ایک مطالعہ شائع کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ موجودہ مصنوعی ذہانت کے نظام شعور رکھنے کے کوئی شواہد نہیں رکھتے لیکن اس نے ساتھ ہی اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ایسی کوئی معلوم تکنیکی رکاوٹیں نہیں ہیں جو مستقبل میں زیادہ ترقی یافتہ نظاموں میں ایسی صلاحیتوں کے ظہور کو روک سکیں۔

جواب کے بغیر سوال

2020 میں تقریباً 1800 فلاسفروں اور فلسفے کے ماہرین کے ایک سروے نے ظاہر کیا کہ ان میں سے 39 فیصد اس خیال کو قبول کرتے ہیں یا قبول کرنے کی طرف مائل ہیں کہ مستقبل کے مصنوعی ذہانت کے نظام شعور کی کوئی نہ کوئی شکل رکھ سکتے ہیں۔ 44 فیصد نے اسے مسترد کر دیا یا مسترد کرنے کی طرف مائل ہوئے۔ باقی ماندہ فیصد بغیر کسی حتمی موقف کے رہی۔ یہ بحث صرف سائنسدانوں تک محدود نہیں ہے کیونکہ ایک پچھلے رائے عامہ کے سروے نے ظاہر کیا کہ 67 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ "چیٹ جی پی ٹی" جیسے چیٹ باٹس شعور کا کچھ درجہ رکھتے ہیں۔

اپنی طرف سے "اوپن اے آئی" کمپنی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سائنس کے پاس آج یہ فیصلہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت باشعور ہو سکتی ہے اور اسی لیے وہ "چیٹ جی پی ٹی" کو دوستانہ اور مددگار بنانے کے لیے ڈیزائن کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ صارفین کو اس کے ساتھ جذباتی تعلقات قائم کرنے کی ترغیب دیے بغیر کام کیا جارہا ہے۔

محققین اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی ایسا سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ مصنوعی ذہانت حقیقی شعور یا جذبات رکھتی ہے لیکن ان نظاموں کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ یہ سوال ایک خیالی مفروضے سے بدل کر سائنسی اور تکنیکی حلقوں میں سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک بن گیا ہے۔ یہ مستقبل میں انسان اور مشین کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے والی سرحدوں کو دوبارہ کھینچ سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں