تعبيرية عن السعادة - آيستوك

تنخواہ میں اضافے یا نئی گاڑی کی خوشی جلد ختم کیوں ہو جاتی ہے؟ سائنسی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہت سے لوگ ترقی، تنخواہ میں اضافہ، نئی گاڑی خریدنے، گھر کی تزئین و آرائش یا نیا فلیٹ لینے جیسی خواہشات رکھتے ہیں۔ جب وہ یہ چیزیں حاصل کر لیتے ہیں ،تو کچھ عرصے کے لیے بے حد خوش ہوتے ہیں، لیکن چند ہی ماہ بعد ان کی خوشی اور دلچسپی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔

ویب سائٹ Bolde کے مطابق، خوشی اور دلچسپی میں یہ تبدیلی کسی ذاتی کمزوری یا کوتاہی کی علامت نہیں، بلکہ نفسیات میں اسے ''ہیڈونک ایڈاپٹیشن'' (Hedonic Adaptation) یا ''لذت سے مانوس ہو جانا'' کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں انسان نئی سہولتوں اور کامیابیوں کا عادی ہو جاتا ہے، جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ان سے ملنے والی خوشی کی شدت کم ہو جاتی ہے۔

لذت سے مانوس ہو جانا

ہیڈونک ایڈاپٹیشن ایک نفسیاتی تصور ہے، جس کی بنیادی بات یہ ہے کہ جب انسان کی زندگی میں کوئی اچھی چیز آتی ہے تو دماغ ابتدا میں اسے غیر معمولی اور نہایت خوش کن سمجھتا ہے، لیکن یہ کیفیت زیادہ دیر برقرار نہیں رہتی۔وقت گزرنے کے ساتھ دماغ اس نئی چیز کو معمول کا حصہ تصور کرنے لگتا ہے۔ جب کوئی چیز معمول بن جائے تو دماغ اسے پہلے جیسی اہمیت یا خوشی کا ذریعہ نہیں سمجھتا اور اس سے ملنے والا جوش و مسرت آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں۔

لاٹری جیتنے والے اور فالج کا شکار افراد

محققین نے دو ایسے گروہوں کا جائزہ لیا جنہیں خوشی کے پیمانے پر ایک دوسرے کی بالکل مخالف مثالیں سمجھا جا سکتا تھا۔ ایک گروہ میں وہ افراد تھے، جنہوں نے حال ہی میں لاٹری میں بڑی رقم جیتی تھی، جبکہ دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل تھے جو حادثات کے نتیجے میں فالج کا شکار ہوئے تھے۔بظاہر توقع یہی تھی کہ لاٹری جیتنے والے انتہائی خوش ہوں گے، جبکہ حادثات کا شکار افراد شدید غم اور مایوسی میں مبتلا ہوں گے۔لیکن تقریباً ایک سال بعد نتائج حیران کن تھے۔

لاٹری جیتنے والے عام لوگوں کے مقابلے میں صرف معمولی حد تک زیادہ خوش تھے، جبکہ حادثات کے باعث فالج کا شکار ہونے والے افراد اپنی سابقہ خوشی کا بڑا حصہ دوبارہ حاصل کر چکے تھے۔یعنی دونوں گروہ، زندگی میں پیش آنے والے انتہائی مختلف واقعات کے باوجود، وقت گزرنے کے ساتھ تقریباً اپنی معمول کی جذباتی کیفیت کی طرف واپس آ گئے۔ یہی رجحان نفسیات میں ''ہیڈونک ایڈاپٹیشن'' یا ''لذت سے مانوس ہو جانے'' کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔

اثر کی کمی

اگر انسان کا ذہن لاٹری جیتنے کی خوشی کو بھی وقت کے ساتھ معمول بنا دیتا ہے اور حادثے کے بعد ہونے والے شدید نقصان کے اثرات کو بھی آہستہ آہستہ کم کر دیتا ہے، تو نئی گاڑی اس کے مقابلے میں زیادہ دیر تک خوشی برقرار رکھنے کی کوئی خاص طاقت نہیں رکھتی۔

تنخواہ میں اضافہ بھی کچھ وقت بعد معمول کا حصہ بن جاتا ہے اور پھر وہی نیا اضافہ صرف ایک نیا معیار بن جاتا ہے جس کے مطابق اگلی بار مزید اضافے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

اسی طرح نیا یا خوبصورت بنایا گیا باورچی خانہ بھی جلد ہی ایک عام جگہ بن جاتا ہے، جہاں انسان بغیر توجہ دیے صرف روزمرہ کام انجام دیتا ہے، اور اس کی باریکیوں یا خوبصورتی کو محسوس کرنا کم ہو جاتا ہے۔

خودکار دوبارہ توازن

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کیفیت دراصل شخصیت کی کوئی خامی ہے۔ جب انسان اپنی خواہش پوری کر لیتا ہے مگر اس کے باوجود زیادہ دیر تک خوش نہیں رہ پاتا، تو وہ یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ شاید اس میں ہی کوئی مسئلہ ہے،مثلاً وہ بہت زیادہ عیاش ہے، لالچی ہے، یا کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا۔تقریباً ہر شخص جو اس پیٹرن کو اپنی زندگی میں محسوس کرتا ہے، اسی قسم کی خود تنقیدی وضاحت تک پہنچتا ہے۔لیکن حقیقت یہ نہیں ہوتی۔ یہ شخصیت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک خودکار ذہنی نظام ہے جو ہر انسان کے اندر کام کرتا ہے۔ یہ ایک طرح کا ذہنی ''ری سیٹ'' ہے، جو وقت کے ساتھ ہر تجربے کو معمول کی سطح پر واپس لے آتا ہے، چاہے انسان کتنا ہی شکر گزار، متوازن یا باشعور کیوں نہ ہو۔

تبدیلی کے ساتھ ردِعمل

انسانی دماغ اس طرح بنا ہوا ہے کہ وہ زیادہ تر تبدیلی پر ردِعمل دیتا ہے، نہ کہ مستقل حالت پر۔ کوئی بھی نئی چیز شروع میں اس لیے نمایاں محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہ نئی ہوتی ہے—وہ انسان کی روزمرہ عادتوں اور معمولات سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔لیکن چند مہینوں کے بعد وہی چیز آہستہ آہستہ معمول کا حصہ بن جاتی ہے اور روزمرہ زندگی کا ایک عام جزو بن جاتی ہے۔

کسی چیز سے ملنے والی خوشی اس لیے ختم نہیں ہوتی کہ انسان نے اس کی قدر نہیں کی، بلکہ اس لیے کہ اصل میں وہ خوشی صرف ''قدر'' کی وجہ سے قائم نہیں رہتی تھی۔ اس کی بنیاد زیادہ تر نئے پن کے جوش پر ہوتی ہے، اور یہ جوش ہمیشہ ایک وقت کے بعد کم ہو جاتا ہے۔

خوشی اور غم دونوں میں ایک ہی نظام

وہی ذہنی عمل جو اچھی چیزوں کی چمک کو آہستہ آہستہ کم کر دیتا ہے، دراصل برے تجربات کے اثر کو بھی کم کرنے میں مدد دیتا ہے—اور یہی بات اپنے اندر ایک طرح کا سکون رکھتی ہے۔کوئی نقصان، صدمہ یا ناکامی ابتدا میں انسان کو ایسا محسوس کروا سکتی ہے ،جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہو، لیکن وقت کے ساتھ ذہن اپنی فطری حالت کی طرف واپس آ جاتا ہے۔

انسان دوبارہ اپنی بنیادی جذباتی سطح پر آ جاتا ہے، چاہے سفر کسی بھی سمت سے شروع ہوا ہو۔یہی ایک ہی عمل دونوں صورتوں میں کام کرتا ہے۔ جب کوئی اچھی چیز اپنی کشش کھونے لگتی ہے تو انسان کو لگتا ہے کہ وہ ناشکری کر رہا ہے اور جب کوئی برا تجربہ اپنی شدت کھو دیتا ہے تو اسے بحالی سمجھا جاتا ہے۔

اصل میں یہ ایک ہی نظام ہے جو ایک ہی کام کرتا ہے: انسان کو ایک مستحکم جذباتی حالت میں واپس لانا۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ نظام مکمل طور پر مفید ہے—کیونکہ اسی کے ذریعے اچھی حالتیں ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہتیں، اور بری حالتیں بھی ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رہتیں۔


اطمینان کا احساس

اگر یہ ممکن نہ ہو کہ کسی خریداری یا نئے تجربے کے ذریعے مستقل طور پر بہتر ذہنی کیفیت حاصل کی جا سکےاور ذہن ہر حال میں اپنی حالت کو دوبارہ معمول پر لے آئے، تو پھر جو لوگ نسبتاً مطمئن اور متوازن نظر آتے ہیں، وہ عموماً اس سوچ سے نکل آتے ہیں کہ اگلی چیز وہ سکون دے گی جو پچھلی چیز نہیں دے سکی۔

فطری سکون

یہ ایک ایسا سکون ہوتا ہے جو قدرتی اور خودکار طور پر پیدا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ بار بار یہی پیٹرن دیکھ کر اس کہانی پر یقین کرنا چھوڑ دیتے ہیں جو ذہن مسلسل سناتا رہتا ہے،یہ کہ یہ ترقی، یہ گھر یا یہ نیا خریداری کا فیصلہ آخرکار وہ تبدیلی ہے جو زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک بہتر سطح پر لے جائے گی اور اسی حالت کو برقرار رکھے گی۔

بنیادی جذبات کی درستی

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے لوگ خواہش یا لطف لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ نئی چیزوں،جیسے نئی گاڑی، تنخواہ میں اضافہ یا کوئی خوشگوار شام سے لطف لیتے ہیں، لیکن انہیں اس بھاری ذمہ داری کے ساتھ نہیں جوڑتے کہ یہ چیزیں ان کے بنیادی جذبات کو ہمیشہ کے لیے ٹھیک کر دیں گی۔یہ لوگ اپنی جذباتی استحکام کو کسی اگلی خریداری یا اگلے تجربے پر نہیں چھوڑتے، بلکہ ان چیزوں پر قائم رکھتے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں،جیسے قریبی رشتے، بامعنی کام، یا روزمرہ کی سادہ مگر مستقل عادات۔

یہی وہ عناصر ہیں جو اپنی نوعیت میں کم تبدیل ہوتے ہیں، اس لیے اپنی تازگی اور اہمیت برقرار رکھتے ہیں۔ ان میں ہر دن کچھ نہ کچھ نیا محسوس ہوتا ہے، اس لیے یہ ذہن کو مسلسل سہارا دیتے رہتے ہیں۔

عام معمول

ٹریڈمل اسی وقت چلتا رہتا ہے ،جب انسان یہ یقین رکھے کہ اگلا قدم اسے منزل تک پہنچا دے گا۔ لیکن جو لوگ نسبتاً مطمئن نظر آتے ہیں، وہ اس امید کے پیچھے بھاگنا کم کر دیتے ہیں۔

یہ لوگ اچھی زندگی ضرور چاہتے ہیں، مگر انہوں نے ہر نئی چیز سے یہ توقع رکھنا چھوڑ دیا ہوتا ہے کہ وہی ان کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دے گی۔ وہ چیزوں کو ان کی اصل شکل میں قبول کرنے لگتے ہیں،ایک عام، گزرتا ہوا، مگر اپنی جگہ خوبصورت حصہ سمجھ کر۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں