رضيع (تعبيرية- أيستوك)
ہاتھ کی انگلیاں انسانی دماغ کی ارتقائی ترقی کے راز بھی بتاتی ہیں
دریافت کیا گیا ایسٹروجن ہارمون کس طرح دماغ کی ارتقائی ترقی میں حصہ ڈالتا ہے
بچے کی انگلیوں کی لمبائی یہ ظاہر کر سکتی ہے کہ پیدائش سے پہلے ایسٹروجن ہارمون نے انسانی دماغ کے بڑے حجم کی ارتقائی ترقی میں کس طرح حصہ ڈالا۔ ویب سائٹ ’’ سائنس ڈیلی‘‘ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ جس میں "ارلی ہیومن ڈیولپمنٹ" جریدے کا حوالہ دیا گیا ہے کے مطابق انسانی ارتقا کا گہرا تعلق ایک بہت بڑے دماغ کی نمو سے ہے۔ نئی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ پیدائش سے پہلے ایسٹروجن ہارمون کا زیادہ سامنا اس پھیلاؤ کا باعث بنا ہو سکتا ہے ۔ اس ہارمون کے اثر کا ایک ممکنہ نشان کسی شخص کی انگلیوں کی باہمی لمبائی میں دیکھا جا سکتا ہے۔
سوانسی یونیورسٹی میں اپلائیڈ سپورٹس، ٹیکنالوجی، ایکسرسائز اینڈ میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کی ریسرچ ٹیم کے رکن پروفیسر جان میننگ انگلیوں کی لمبائی کے تناسب کے مطالعے میں تخصیص رکھتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ مطالعے میں استنبول یونیورسٹی کے شعبہ انتھروپولوجی کے محققین کے ساتھ تعاون کیا ہے۔
ایک بالواسطہ اشاریہ
انگلیوں کی لمبائی کا تناسب شہادت کی انگلی (جسے ڈی 2 کے نام سے جانا جاتا ہے) کی لمبائی کا موازنہ رنگ فنگر (ڈی 4) کی لمبائی سے کرتا ہے۔ اس پیمائش کو ڈی ٹو تناسب ڈی فور کہا جاتا ہے۔ محققین اسے ایسٹروجن اور ٹیسٹوسٹیرون ہارمونز کے توازن کے ایک بالواسطہ اشاریے کے طور پر استعمال کرتے ہیں جن سے جنین حمل کے پہلے تین مہینوں کے دوران متاثر ہوا ہو سکتا ہے۔
جن لوگوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ٹیسٹوسٹیرون کے مقابلے میں ایسٹروجن ہارمون کی نسبتاً زیادہ سطح سے متاثر ہوئے ہیں، ان کی شہادت کی انگلی (ڈی 2) عام طور پر رنگ فنگر (ڈی 4) سے لمبی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ’’ڈی ٹو تناسب ڈی فور‘‘ زیادہ حاصل ہوتا ہے۔
محققین کی ٹیم نے 225 نوزائیدہ بچوں کا معائنہ کیا جن میں 100 لڑکے اور 125 لڑکیاں شامل تھیں۔ انہوں نے ہر بچے کے ’’ڈی ٹو تناسب ڈی فور‘‘ کی پیمائش کی اور اس کا موازنہ سر کے گھیراؤ (محیط) سے کیا جو عام طور پر نوزائیدہ بچوں میں دماغ کے سائز کے عمومی اشاریے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسے ادراکی نمو اور آئی کیو (IQ) کی بعد کی پیمائشوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔ یاد رہے بہت سے جینیاتی، ماحولیاتی اور نمو کے عوامل بھی ذہانت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
محققین نے دریافت کیا کہ جن لڑکوں میں ’’ڈی ٹو تناسب ڈی فور‘‘ زیادہ تھا ۔ ان میں سر کا گھیراؤ بھی بڑا ہونے کا رجحان پایا گیا۔ لڑکیوں میں یہی تعلق نہیں دیکھا گیا۔
بندر کا مفروضہ
یہ نتائج اس نظریے کو تقویت دے سکتے ہیں جسے "ایسٹروجن سے متاثرہ بندر کا مفروضہ" کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ انسان کے بڑے دماغ کا ارتقا ایسی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوا جنہوں نے انسانی ڈھانچے کو ہمارے ابتدائی آباؤ اجداد کے مقابلے میں کم مضبوط اور جسمانی طور پر زیادہ زنانہ (Anatomic Feminity) بنا دیا۔
پروفیسر میننگ نے کہا کہ یہ انسانی ارتقا کے لیے ایک اہم نتیجہ ہے کیونکہ دماغ کے سائز میں اضافہ ڈھانچے کے زنانہ ہونے کے ساتھ ہم آہنگ ہے جسے ایسٹروجن سے متاثرہ بندر کا مفروضہ کہا جاتا ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ مردوں میں "ڈی ٹو تناسب ڈی فور" کا زیادہ ہونا دل کی بیماریوں کے زیادہ خطرے، سپرم کی تعداد میں کمی اور شیزوفرینیا کے رجحان سے جڑا ہے۔ لیکن دماغ کے سائز میں اضافہ ان مسائل کی تلافی کر سکتا ہے۔
اس لیے انسانوں میں بڑے دماغ کی طرف ارتقائی پیش رفت لازمی طور پر مردوں کی بقا کے امکانات میں کمی سے جڑی ہو سکتی ہے۔ اس میں دل کی بیماریوں کے مسائل، بانجھ پن اور شیزوفرینیا کے مسائل شامل ہوسکتے ہیں۔ محققین کہتے ہیں کہ بڑے دماغ نے شاید اہم ارتقائی فوائد فراہم کیے ہوں گے لیکن اس ارتقا کے ساتھ جڑے ہارمونل حالات مردوں کے لیے حیاتیاتی نقصان کا باعث بھی ہو سکتے ہیں۔