سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے سکیورٹی ترجمان کرنل طلال الشلہوب: واس فوٹو
حج سیزن میں 436 جعلی حج مہمات ناکام بنائیں: ترجمان وزارت داخلہ
امسال سعودی عرب میں بغیر اجازت حج کی کوشش پر سخت کارروائی، سیکڑوں افراد گرفتار
سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے سکیورٹی ترجمان کرنل طلال الشلہوب نے حج سیزن کی میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ سکیورٹی ٹیمیں حجاج کرام کی خدمت کے ساتھ ساتھ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی میں مصروف ہیں۔ اب تک 436 جعلی حج مہمات کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔
ترجمان کے مطابق 462 ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو حج کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیگر افراد کو غیر قانونی طریقے سے مکہ مکرمہ پہنچانے یا ان کی معاونت میں ملوث تھے۔ ان میں سعودی شہری، مملکت میں مقیم غیر ملکی اور مختلف اقسام کی وزٹ ویزا رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 418 فیصلے نافذ
ترجمان نے مزید بتایا کہ وزٹ ویزا رکھنے والے جن افراد نے حج کے قوانین کی خلاف ورزی کی، انہیں مکہ مکرمہ سے مسلسل واپس بھیجا گیا۔ اسی طرح، اب تک ایسے 418 افراد کے خلاف انتظامی فیصلے بھی نافذ کیے جا چکے ہیں جو بغیر اجازت حج کی کوشش میں ملوث پائے گئے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
بھاری جرمانے، مکہ میں داخلے پر مکمل پابندی
وزارت داخلہ نے حج سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے واضح کیا گیا کہ بغیر اجازت حج کرنے یا اس کی کوشش کرنے والے افراد پر 20 ہزار ریال تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اسی طرح وزٹ ویزا رکھنے والے افراد اگر یکم ذوالقعدہ سے 14 ذوالحجہ کے دوران مکہ مکرمہ یا مقدس مقامات میں داخل ہونے یا وہاں قیام کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں بھی جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی فرد کسی ایسے شخص کے لیے وزٹ ویزا جاری کرانے کی درخواست دیتا ہے جو بغیر اجازت حج کی نیت رکھتا ہو، یا مکہ مکرمہ میں داخلے کی کوشش کرتا ہو، تو ایسے شخص پر 1 لاکھ ریال تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اگر ایک سے زائد افراد کو اس مقصد کے لیے وزٹ ویزے جاری کیے گئے ہوں تو ہر فرد پر الگ الگ جرمانہ عائد ہوگا۔
سعودی حکام نے شہریوں اور مقیم افراد کو حج کے ضوابط کی سختی سے پاسداری کی ہدایت کی ہے تاکہ حجاج کرام کو سہولت اور سلامتی کے ساتھ مناسک کی ادائیگی کا موقع فراہم کیا جا سکے۔