null
امریکی ریاستیں حشیش کے استعمال کو قانونی شکل دینے کے لیے کوشاں
قانون پاس ہونے پر کولاراڈو حشیش کا دارالحکومت ہو گی
برطانوی اخبار 'آبزرور' کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں حشیش کے استعمال کے حوالے سے قانونی حلقوں میں کافی عرصے سے بحث جاری تھی، اب اگر اس نشہ آوربوٹی کے استعمال کی اجازت مل گئی تو اسے اکیس سال اور اس سے زائد عمر کے افراد استعمال کر سکیں گے۔
خیال رہے کہ حشیش امریکا کی کئی ریاستوں میں اس وقت غیر قانونی شکل میں رائج ہے جبکہ کئی دوسری ریاستوں میں جرم قرار دیے جانے کے باوجود اس کا استعمال محض طبی ضرورت کے لیے جائز ہے۔ امریکی ریاستوں میں حشیشن کے استعمال کو قانونی شکل دے دی گئی تو اسے امریکی وفاقی وزارت قانون و انصاف کو ریفر کیا جائے گا جو حشیش یا اس نوعیت کی دیگر منشیات کے استعمال کے لیے کچھ شرائط اور قواعد وضوابط بھی وضع کرے گی۔
اجازت ملنے کی صورت میں لوگ پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کے دوران اسے استعمال کر سکیں گے۔ امریکا میں حشیش کے استعمال کو قانونی شکل دینے کے خلاف سرگرم انسانی حقوق کی کارکن لورا چابین کا کہنا ہے کہ حشیش کا استعمال تو پہلے سے چوری چھپے ہو رہا ہے۔ صرف پبلک مقامات پر اس کے استعمال کی کسر باقی رہ گئی تھی۔ حکومت اب اسے بھی پورا کرنے پر تلی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں چابین کا کہنا تھا کہ حشیش کے استعمال کو جواز مل گیا تو اس کا سب سے زیادہ استعمال ریاست کولاراڈو میں ہو گا اور یوں یہ ریاست 'حشیش کا دارالحکومت' قرار دی جائے گی۔ ایسے میں کون اس مضر بوٹی کو ہمارے بچوں کی پہنچ سے دور رکھے گا؟۔
دوسری جانب حشیش کے استعمال کو قانونی شکل دینے کی مہم کے روح رواں جون ماکی کہتے ہیں کہ 'امریکا میں لاکھوں لوگ حشیش کو غیر قانونی ہونے کے باوجود استعمال کرتے ہیں۔ میں اس کے غیر قانونی استعمال کا مخالف ہوں۔ حشیش کا استعمال قانونی ہونا چاہیے، اگر اسے قانونی حیثیت نہ ملی تو یہ بہت بڑی ناکامی ہو گی’’۔
مسٹر جون ماکی کا کہنا تھا کہ امریکا میں ہر سال انسداد منشیات پر 44 ارب ڈالرز پھونکے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں میں حشیش کا استعمال کم نہیں کیا جا سکا ہے۔ انسداد منشیات کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکا میں خطیر رقم صرف کیے جانے کے باوجود حکومت منشیات کی روک تھام اور اس پر مکمل پابندی عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔