null
کویت کے سابق رکن پارلیمان پر بدستور سفری پابندی عاید
امیر کویت پر تنقید کے الزام میں قائم مقدمے کی سماعت کے موخر
مسلم البراک نے گذشتہ ماہ امیر کویت کے علاوہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان پر کویت میں حزب اختلاف کے حکومت مخالف مظاہروں پر قابو پانے کے لیے شرپسندوں کو بھیجنے کا الزام عاید کیا تھا۔
انھوں نے شاہ عبداللہ دوم پر تنقید کرتے ہوئے انھیں صہیونیت کا ایجنٹ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے جن شرپسندوں کوبھیجا تھا،وہ 1990ء میں کویت میں پسپائی اختیار کرنے والوں کی اولاد تھے۔
مسلم البراک نے اس سے پہلے یہ کہا تھا کہ کویت میں عوامی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ساڑھے تین ہزار اردنی فوجی بھیجے گئے تھے لیکن اردن کی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے ان کے بیان کو ''فحش'' قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔
مسلم البراک کو انتیس اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں دس روز کے لیے پولیس کی تحویل میں دینے میں حکم دیا گیا تھا۔ان کی گرفتاری کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا جس میں تیس سے زیادہ مظاہرین اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔انھیں یکم نومبر کو پینتیس ہزار سات سو ڈالرز کی ضمانت کے عوض رہا کردیا گیا تھا۔
ان کے علاوہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے تین اور سابق ارکان فلاح السواغ ،خالد الطہوس اور بدرالضہوم کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ان پر بھی امیر کویت پر تنقید کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔وہ پانچ روز تک زیرحراست رہے تھے اوراس کے بعد انھیں سترہ ہزار آٹھ سو ڈالرز کی ضمانت کے عوض رہا کردیا گیا تھا۔
حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایک اور(پانچویں) سابق رکن کو انہی الزامات کا سامنا کرنے کے لیے چھبیس نومبرکو عدالت میں پیش کیا جارہا ہے جبکہ چھٹے رکن کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ کویت میں اس وقت اسلام پسند ،قوم پرست اور لبرل حزب اختلاف کے سیکڑوں حامی اور کارکنان امیر کویت کے انتخابی قانون میں ترمیم کے فیصلے کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ انتخابی قانون میں ترمیم غیر قانونی ہے اور اس کا مقصد ربراسٹمپ پارلیمان کو منتخب کرنا ہے۔کویت میں یکم دسمبر کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔حزب اختلاف نے اس قانون کی تنسیخ تک مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کررکھا ہے۔