null
نماز کو نازی تسلط سے تشبیہ دینے ولی پورپی پارلیمنٹرین زیر عتاب
میرین لوپن کے خلاف نسلی منافرت پر اکسانے کے الزام میں استغاثہ دائر
وزارت قانون کے ترجمان پیررے رانسہ نے بتایا کہ پورپی پارلیمنٹ کی سربراہ مارٹن شالٹز نے روپن کو قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے حاصل پارلیمانی تحفظ ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔
اس درخواست کی وجہ میرین لوپن کے 10 دسمبر 2010ء کو فرانس کے شہر لائیون میں دیا گیا متنازعہ بیان ہے جس میں انہوں نے نماز کی ادائی کو قبضے سے تشبیہ دی تھی۔
لوپن نے 10 دسمبر 2010ء لائیوں میں نیشنل فرنٹ کے انتخابی جلسے میں مسلمانوں کی طرف سے سڑک پر نماز ادائی کی مذمت کی۔ لوپن نیشنل فرنٹ کی ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لے رہی تھیں۔
بہ قول لوپن: "مجھے افسوس ہے تاہم جو لوگ بہت زیادہ دوسری جنگ عظیم کی باتیں کرتے ہیں، مسلمانوں کی نماز کا معاملہ بھی زمینی قبضے سے مشابہہ ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ جن جگہوں میں مذہبی قانون نافذ کیا جاتا ہے، نماز کی ادائی وہاں کی زمین اور کالونی کا ایک قبضہ ہی تصور ہوتی ہے، اگرچہ اس قبضے کے لئے ٹینک اور فوج درکار نہیں ہوتی، تاہم ساری کیفیت سے آبادی کا ہر فرد متاثر ہوتا ہے۔
نسل پرستی کے خلاف تحریک کی شکایت پر لائیون کی پراسیکیوشن نے نسلی منافرت پھیلانے کے الزام میں لوپن کے خلاف ابتدائی تفتیش شروع کی تھی۔