pas

ایرانی صدر حسن روحانی کی دفاعی بجٹ میں نو فیصد کمی کی تجویز

جان کیری کے بیان پر مجلس شوریٰ نے دفاعی بجٹ بڑھانے پر زور دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے مجلس شوریٰ کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافے پر زور دیے جانے کے باوجود نئے سال کے فوجی بجٹ میں نو فی صد کمی کی تجویز دی ہے۔

ایران کے فارسی اخبار"شرق" کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ایک حالیہ متنازعہ بیان کے بعد تہران مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] نے دفاعی بجٹ میں اضافے کی حمایت کی تھی، تاہم صدر حسن روحانی نے فیصلہ کیا ہے کہ پیش آئند ماہ 20 مارچ کو منظور کیے جانے والے دفاعی بجٹ میں اضافے کے بجائے نوفی صد کمی کی جائے گی۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حسن روحانی کی حکومت کی جانب سے آئندہ سال کے دفاعی بجٹ کے بارے میں جو تجاویز مجلس شوریٰ کو ارسال کی ہیں۔ ان میں موجودہ بجٹ کے مقابلے میں 09 فی صد کمی کرتے ہوئے 223 ملین ڈالر کی رقم تجویز کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے اقتصادی شعبے"خاتم الانبیاء" کے سالانہ بجٹ میں ماضی کی نسبت 50 فی صد کمی کی تجویز ہے۔ قبل ازیں امریکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ مسلح افواج کے بجٹ میں 50 فی صد اور پاسداران انقلاب کے بجٹ میں 30 فی صد اضافے کا امکان ہے۔

اخبار"شرق" کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں ایران کا فوجی بجٹ کل میزانیے کا 17 فی صد رہا ہے لیکن نئی بجٹ پالیسی میں فوجی بجٹ کو کل میزانیے کا 8.16 فی صد مقرر کیا گیا ہے۔ فوجی بجٹ کے بارے میں تفصیلات سامنے لائے جانے پر ایرانی سیکیورٹی کونسل کے رکن وحید احمدی نے کہا کہ دفاعی بجٹ کی تفصیلات کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ دفاعی بجٹ کے بارے میں عوام الناس کوکچھ نہ بتایا جائے۔ اگر بتانا ناگزیر ہی ہوجائے تو صرف اجمالا بتا دیا جائے اور اس کی تمام تفصیلات نہ بتائی جائیں۔

"ندائے ثورہ" نیوز پورٹل سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر احمدی کا کہنا تھا کہ فوجی بجٹ کی تفصیلات سامنے لانا قومی مفاد کےخلاف ہے۔ اس طرح ہمارے دشمن کو ہماری فوجی قوت کا اندازہ لگانے میں آسانی ہو جاتی ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے دفاعی بجٹ میں کمی کی تجویز ایک ایسے وقت میں سامنےآئی ہے جب امریکا اور تہران کے درمیان تلخ بیانات کا بھی تبادلہ ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ اگر تہران نے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی معاہدے کی پاسداری نہ کی تو اس کےخلاف فوجی ایکشن کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس کے ردعمل میں ایرانی مجلس شوریٰ کے چیئرمین علی لاریجانی نے کہا کہ ہمیں امریکیوں کے بیانات کو غیرسنجیدہ لینے کے بجائے ان کے جواب میں اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے پرتوجہ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا موجودہ دفاعی بجٹ امریکی دھمکیوں کو جواب دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔ جان کیری کے بیان پر ایران کے ایک دوسرےرکن پارلیمنٹ جواد قدوسی کا کہنا تھا کہ امریکا کے دھمکی آمیز بیانات کا مناسب جواب دفاعی بجٹ میں اضافہ کرکےدیا جاسکتا ہے۔

حال ہی میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا "العربیہ" کو دیا گیا ایک انٹرویو تہران میں سخت تشویش کا باعث بنا۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری تنازعہ بارے عالمی امن معاہدے کی پاسداری نہ کی تہران کےخلاف فوجی کارروائی کا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں