NATO

نیٹو سرد جنگ کے حربے بروئے کار لا رہا ہے: روس

تعاون معطل کرنے پر دوہرے کردار کا بھی الزام عاید کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے نیٹو پر دوہرے کردار اور سرد جنگ کے روایتی حربے بروئے کار لانے کا الزام عاید کیا ہے۔ روس کی طرف سے یہ الزام مغربی ممالک کے اس موقف کے بعد سامنے آیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ یوکرین کے معاملات کی وجہ سے تعاون پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔

روسی نمائندے الیگزنڈر گرشک نے نیٹو اور روسی حکام کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''نیٹو کا اجلاس یہ ظاہر کرتا ہے کہ نیٹو آج بھی دوہرے معیار کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور ابھی تک سرد جنگ کے روایتی حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے نیٹو نے روس کے ساتھ مشترکہ مشنوں کے منصوبے معطل کرنے کے علاوہ فوجی و سول طرز کی میٹنگز نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

نیٹو کے ذمہ دار اینڈرس راسموسین نے کہا '' 28 رکنی نیٹو کے سفیروں نے فیصلہ کیا ہے کہ روس کے ساتھ تمام مشترکہ مشنز کے منصوبے معطل کیے جاتے ہیں، کیونکہ روس نے یوکرین میں فوجی کارروائی کی ہے، اس وجہ سے نیٹو اور روس کے درمیان تمام تر تعاون پر نظر ثانی کی جائے گی۔''

نیٹو سیکرٹری جنرل راسمسین نے کہا '' نیٹو نے یوکرین کے ساتھ شراکت کومحدود کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔'' اسی دوران روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے سماجی اور سیاسی صورتحال میں بہتری کیلیے بین الاقوامی تعاون کے امکانات پر غور کیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے کریمیا کے لیے خصوصی نمائندے رابرٹ سیری نے یوکرین کا دورہ مختصر کر دیا ہے۔ واضح رہے انہیں ایک بندوق بردار نے یوکرین چھوڑنے کیلیے دھمکی دی تھی۔ وہ یوکرین کی صورتحال کو سمجھنے کیلیے یوکرین کے دورے پر تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں