طرابلس کے ہوائی اڈے پر طیارے کھڑے ہیں
رن وے پر راکٹ گرنے کے بعد طرابلس کا ہوائی اڈا بند
پروازوں کی آمد ورفت معطل، دارالحکومت سے رات بھر فائرنگ کی آوازیں
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے پر راکٹ گرے ہیں جس کے بعد طیاروں کی آمد ورفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
لیبیا کے ایک سینیر سکیورٹی عہدے دار نے راکٹ حملے کے بعد پروازوں کی آمدورفت معطل ہونے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ''ملازمین رن وے کو صاف کررہے ہیں۔توقع ہے کہ ہوائی اڈے کو آیندہ چند گھٹنوں میں پروازوں کے لیے کھول دیا جائے گا''۔
لیبیا کی سرکاری نیوزایجنسی ''لانا'' کی اطلاع کے مطابق جمعہ کو علی الصباح رن وے پر دو راکٹ گرے تھے۔طرابلس کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے رات بھر شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کی آوازیں سنی تھیں لیکن انھیں اس کا سبب معلوم نہیں ہوسکا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں سکیورٹی گارڈز نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے زبردستی ہوائی اڈا بند کرا دیاتھا۔وہ گذشتہ کئی ماہ سے رکی ہوئی اپنی تنخواہیں ادا کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔تاہم بعد میں حکام کی مداخلت سے وہ ہوائی اڈا کھولنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔
لیبیا میں 2011ء میں سابق صدر معمرقذافی کی حکومت کے مسلح عوامی بغاوت کے نتیجے میں خاتمے کے بعد سے بدامنی اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔طرابلس ،بن غازی اور دوسرے شہروں میں مسلح جنگجو دندناتے پھررہے ہیں۔وہ کسی حکومتی ادارے کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور لیبی حکومت ان مسلح جنگجوؤں پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
اسی بارے میں
-
70مصری شہری اغوا نہیں،گرفتار ہوئے ہیں:لیبی سفیر -
لیبیا : معزول وزیر اعظم کے بیرون ملک جانے پر پابندی عاید -
قذافی کا بیٹا سعدی لیبیا کے حوالے، پولیس نے ٹنڈ کردی -
لیبیا: عسکری ملیشیا نے پارلیمنٹ کے خاتمے کی مہلت بڑھا دی -
لیبیا میں احتجاجی مظاہروں کے بعد 12 ارکان پارلیمان مستعفی -
لیبیا: وزیر داخلہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے