Your browser doesn’t support HTML5 video

صدر اوباما نے سعودی خاتون ماہا منیف کو ایوارڈ دیا

ماہا منیف گھروں میں خواتین پر تشدد کیخلاف سرگرم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران ہفتے کے روز خواتین کے حقوق کی حمایت اور گھروں میں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانے والی ممتاز سعودی کارکن ماہا منیف سے مل کر ان کی کوششوں کی پذیرائی کی ہے۔ ماہا منیف کی انہی سرگرمیوں کے اعتراف میں امریکی وزارت خارجہ نے اسی سال ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا جو اوباما نے ہفتے کے روز انہیں پیش کیا ہے۔

منیف نے خواتین پر گھروں تشدد کے خلاف 2005 میں نیشنل سیفٹی پروگرام کے تحت سرگرمیاں شروع کی تھیں۔ اس مہم کا مقصد مردوں کو ولی اور سرپرست بننے کے حوالے خواتین کے کامل اختیارات دے دینے کے خلاف آواز اٹھانا بھی تھا۔

ہفتے کے روز براک اوباما نے ماہا منیف سے ملاقات کی ہے۔ اسی روز سعودی خواتین کو ڈرائیونگ سے روکنے کیخلاف از سرنو مزاحمت شروع ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں مدیحہ الجروش نے عالمی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا صدر اوباما کے سعودی عرب میں ہوتے ہوئے خواتین کے ڈرائیونگ کے ایشو کو سامنے لانا محض اتفاق ہے۔ مدیحہ الجروش نے کہا '' ہم اپنی سرگرمیوں کیلیے ہر مہینے کا ایک دن مقرر کرتے ہیں تاکہ اپنا مطالبہ سامنے لا سکیں۔''

انہوں نے مزید کہا آج کا احتجاج ہماری 26 اکتوبر سے جاری ہماری مجموعی مہم کا حصہ ہے، جس دوران 16 خواتین کو پولیس نےگاڑیاں چلانے سے روکا تھا۔ '' واضح رہے اس حوالے سے ایمنسٹی انٹر نیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں کے باوجود صدر اوباما نے اپنے دورے کے موقع پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر ذمہ دار نے اس بارے میں کہا '' ہمیں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال پر، حقوق نسواں ، مذہبی آزادیوں اور اظہار رائے کے معاملات کے حوالے سے تشویش ہے، لیکن زیادہ تر وقت شام اور ایران سے متعلق ایشوز صرف ہوا ۔'' اس ذمہ دار نے کہا ''اس وجہ سے انسانی حقوق کا معاملہ بھی زیر بحث آسکا نہ دوسرے موضوعات پر بات ہو سکی۔ ''

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں