اسرائیل نے جان کیری پر حماس کے حمایتی ہونے کا الزام لگایا ہے۔ [فائل فوٹو ]
امریکا نے اسرائیل کی عدیم المثال مدد کی ہے: امریکی ترجمان
'جان کیری کو حماس کا حمایتی قرار دینا جارحیت ہے'
امریکی دفتر خارجہ نے اسرائیل کی طرف سے وزیر خارجہ جان کیری کو 'حماس کا دوست' قرار دیے جانے کو 'بے بنیاد جارحیت' سے تعبیر کیا ہے۔ امریکا کی ایک سینئر سفارتکار نے اس امر کا اظہار رپورٹرز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی نائب ترجمان میری ہاف نے جان کیری کے خلاف اسرائیل کی طرف سے بے بنیاد اور لغو الزامات کی بوچھاڑ پر کہا: ''اسرائیل میں ایسی آوازیں سنی گئی ہیں کہ وزیر خارجہ حماس کی حمایت کر رہے ہیں، یہ ایک جارحانہ اور لغو بات ہے۔''
میری ہاف نے مزید کہا: ''امریکا نے اسرائیل کو پوری طرح مدد اور حمایت دی ہے جس کی ماضی میں بھی مثال نہیں ملتی ہے، ہماری اسرائیل کے لیے یہ حمایت اس وقت بھی جاری رہی جب ہم اس معاملے میں تنہا رہ گئے۔''
واضح رہے پچھلے ہفتے غزہ میں جنگ بندی کوششوں میں ناکامی کے بعد جان کیری اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے سخت شکنجے میں ہیں۔ انہوں نے جمعہ کے روز جنگ بندی منصوبہ پیش کیا تھا جسے اسرائیلی کابینہ نے متفقہ طور پر رد کر دیا تھا۔
اس کے بعد معروف اسرائیلی صحافی نیحم بارنی نے لکھا'' جان کیری ہمارے ایسے دوست ہیں جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ ان سے بات کرنے سے بہتر ہے کہ دشمنوں سے بات چیت کر لی جائے۔''
اسرائیلی میڈیا میں جان کیری کو ایسا 'سانڈ قرار دیا گیا جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ ہر مسئلہ خود ہی حل کر سکتا ہے۔'
میری ہاف نے اس صورت حال کے بارے میں کہا کہ اس طرح کی ایک اتحادی یعنی اسرائیل کی جانب سے تنقید پر بات کرنا بھی مشکل ہے، ہم تمام نے جان کیری کے ساتھ یروشلم میں جو وقت امن کوششوں کے لیے گزارا ہے اس کی ناکامی پر سخت مایوسی ہوئی ہے۔''