Muslims pass the time at their house in Paik Thay, the site of violence between Muslim Rohingyas and Arakanese Buddhists. (File Photo: Reuters)

ہیومن رائٹس واچ کی روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی مذمت

میانمار حکومت کا منصوبہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف: رائٹس واچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے میانمار حکومت کی طرف سے ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مہم کے نتیجے میں انہیں گھروں سے نکال کر کیمپوں مین رکھنے اور ان شہریت کے حقوق ختم کرنے کی مذمت کی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق میانمار کی نسل پرستانہ اور ظالمانہ کارروائیوں پر میانمار میں موجود امریکی و دیگر غیر ملکی سفارت خانوں نے حکومت کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف منصوبے کے بعض حصوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔

واضح رہے روہنگیا مسلمان پچھلے کئی برسوں سے حکومت کے نسل پرستانہ مظالم کا نشانہ ہیں۔ میانمار آبادی گیارہ لاکھ بتائی جاتی ہے جنہیں نسلی حوالے سے الگ تھلگ رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ انہیں بدھوں کی طرف سے سخت نفرت اور تشدد کا سامنا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت سے بے دخل کیے جانے کے اقدامات کو واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔ حکومت انہیں بنگالی قرار دیتی ہے، جبکہ روہنگیا مسلمانوں کا موقف ہے کہ وہ صدیوں سے اسی خطے کے باسی ہیں اور انہیں صرف مذہبی بنیادوں تعصب اور نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

میانمار حکومت کے اس زیر مذمت منصوبے کے تحت روہنگیا مسلمانوں کو پہلے خود کو بنگالی ماننا ہو گا۔ حکومت نے ایسے روہنگیا مسلمانوں کے لیے کیمپ قائم کیے ہیں جو بنگالی شہری ہونے کا انکار کرتے ہوں۔ اس منصوبے پر عمل کے نتیجے میں ان زیرعتاب مسلمانوں کو اپنے علاقوں اور گھروں سے بے دخل ہونا ہو گا۔

انسانی حقوق گروپ نے اس منصوبے میں لوگوں کو اپنے آبائی گھروں سے محروم کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔ انسانی حقوق واچ کے ایشیا کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر فل رابرٹسن کے مطابق '' یہ منصوبہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ان روہنگیا عوام کو ملک بدر کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔''

نیو یارک میں موجود ہیومن رائٹس واچ کے ایک ذمہ دار نے اپنے ایک الگ جاری کیے گئے بیان میں کہا '' روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار کا حکومتی منصوبہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے۔''جبکہ میانمار کے دارالحکومت میں امریکی سفارتخانے کے مطابق یہ اور دوسرے سفارت خانے ہم مشترکہ طور پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ شہریت کے بغیر روہنگیا کو عارضی کیمپوں میں رہنا پڑے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں