غزہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے حالیہ تنازعے کے نیتجے میں بن غوریان ائیرپورٹ سے پرواز کی آمدورفت کا سلسلہ متاثر ہوا ہے۔ [فائل فوٹو رائیٹرز]
غزہ پر اسرائیلی جنگ ، اسرائیلی شرح نمو میں کمی
پانچ سال میں اسرائیلی معیشت یہ پہلا دھچکا ہے
غزہ پر اندھا دھند خونی جنگ مسلط کرنے والے اسرائیل کو ملکی پیداوار اور معیشت کے حوالے معاشی میدان میں جنگ کی قیمت کی ادائیگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جنگ کی وجہ سے پچھلے پانچ برسوں کے دوران اسرائیلی معیشت کے لیے یہ سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔
سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مرکزی ادارہ شماریات کے مرتب کردہ اعدادو شمار کے مطابق جولائی اور ماہ ستمبر کے دوران پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں شرح نمو میں اعشاریہ چار فیصد کمی رہی ہے۔
اس کمی کو پچاس دنوں کے لیے غزہ پر جاری رکھی گئی جنگ کا نتیجہ بتایا گیا ہے۔ واضح رہے یہ جنگ آٹھ جولائی سے چھبیس اگست تک جاری رہی اور اسرائیل نے ان پچاس دنوں میں بدترین بمباری کر کے 2100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا تھا۔
اس بارے میں ادراہ شماریات کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ 2009 کے بعد شرح نمو میں یہ پہلی بار گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی اپنے جائزے میں 2014 کے دوران معاشی نمو کی کمزوری کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم وزارت خزانہ نے کہا ہے یہ اثرات دیر پا نہیں ہوں گے۔
اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق توقع ہے کہ 2015 کے دوران شرح نمو دو اعشاریہ آٹھ رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔