Free palestine

فرانسیسی سینٹ کا خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی پارلیمان کی جانب سے فلسطینی ریاست کی علامتی حمایت کے بعد اب سینٹ نے بھی آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطین۔اسرائیل امن مذاکرات فی الفور بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’’اےایف پی‘‘ کے مطابق فرانسیسی سینٹ میں آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت میں قرارداد میں سوشلسٹ اور کیمونسٹ پارٹیوں کے ارکان نے حصہ لیا۔ قرارداد کی حمایت میں 153 جبکہ مخالفت میں 146 ووٹ ڈالے گئے۔

اگرچہ سینٹ کی قرارداد کی اہمیت بھی محض علامتی ہے مگر اس کے نتیجے میں حکومت پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کے لیے دبائو بڑھ سکتا ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے معمولی اکثریت کے ساتھ منظور کی جانے والی اس قرارادد پر بھی شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یک طرفہ طور پر فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان فلسطین۔اسرائیل امن مساعی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اس طرح کی کوششیں ان حلقوں کی طرف سے ہو سکتی ہیں جو مذاکرات نہیں چاہتے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے والے ارکان کا خصوصی طور پر شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔

فلسطینی ریاست کی حمایت میں قرارداد پیش کرنے والے فرانسیسی سینٹ میں شامل سوشلسٹ رکن گیلبیر روگیے نے کہا کہ آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام فلسین اور اسرائیل کو مساوی انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا موقع فراہم کرنے کا پہلا قدم ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے حامی نہیں بلکہ ہمارا پر زور مطالبہ ہے کہ فریقین باہمی بات چیت کا جلد از جلد آغاز کریں۔ ہم فلسطین۔اسرائیل کشمکش کا اس لیے بھی خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ تنازع دو مذاہب کے درمیان جنگ کا موجب بن سکتا ہے۔ ہم اس جنگ کو اپنی سر زمین تک منتقل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

سوشلسٹ رکن سینٹ الیون اساسی کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں اصل تنازعہ فلسطینی اور اسرائیلی اقوام کے درمیان عدم مساوات ہے، جب تک دونوں قوموں کو مساوی حقوق مہیا نہیں کیے جاتے اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا۔

قرارداد کی مخالفت کرنے والے رکن کریسٹن کمبون نے کہا کہ پارلیمنٹ نہ تو فلسطین۔اسرائیل مذاکرات شروع کرا سکتی ہے اور نہ ہی یہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوئی ٹائم فریم جاری کرنے کی اتھارٹی رکھتی ہے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا کوئی زیادہ اہمیت کا حامل نہیں۔ ہم فلسطینیوں کو اس سے زیادہ ان کے حقوق دلوانا چاہتے ہیں۔

ادھر فرانسیسی حکومت کے یورپی امور کےترجمان ھارلم دزیر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک فلسطین۔اسرائیل تنازع کے حل کے حوالے سے اہم عالمی اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کی بڑھتی حمایت کے جلو میں عالمی برادری کو اب سر جوڑ کر بیٹھنا اور مسئلے کا کوئی دیر پا حل تلاش کرنا ہو گا۔

خیال رہے کہ فرانس سمیت اب تک نصف درجن سے زائد یورپی ممالک فلسطینی ریاست کی خود مختاری کو تسلیم کر چکے ہیں۔ برطانیہ، بیلجیئم اسپینی پارلیمان کے بعد گذشتہ روز آئرش پارلیمان میں بھی فلسطینی ریاست کی حمایت کے لیے ایک علامتی قرارداد منظور کی گئی تھی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں