فرانسیسی شہری فرتز جولی ژواچین گرفتاری کے بعد بلغاریہ کے شہر حاسکووو کی ایک عدالت میں پیشی کے وقت بیٹھا ہے۔
پیرس حملے سے تعلق پر بلغاریہ میں فرانسیسی گرفتار
بلغاریہ میں پیرس میں گذشتہ ہفتے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار چارلی ہیبڈو پر حملہ کرنے والے دونوں بھائیوں میں سے ایک سے تعلق کے الزام میں ایک فرانسیسی نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اس انتیس سالہ نوجوان فرتز جولی ژواچین کی گرفتاری یکم جنوری کو بلغاریہ سے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران عمل میں آئی تھی۔وہ ہیٹی نژاد فرانسیسی شہری ہے اور اس کے ماضی میں شریف کواشی سے روابط رہے تھے۔
بلغاریہ کی ایک پبلک پراسیکیوٹر ڈیرنا سلاووا نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ژواچین 30 دسمبر کو فرانس سے بلغاریہ کے لیے روانہ ہوا تھا اور اس سے قبل وہ شریف کواشی سے رابطے میں تھا۔اس کے ایک ہفتے کے بعد گذشتہ بدھ سات جنوری کو شریف کواشی اور اس کے بھائی سعید کواشی نے پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کیا تھا اور اندھا دھند فائرنگ کرکے آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔
ژواچین پر اس کی اہلیہ نے اپنے تین سالہ بیٹے کو اغوا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرایا تھا جس کے بعد اس نے بلغاری حکام سے فرانس کی جانب سے جاری کردہ یورپی وارنٹ گرفتاری دکھانے کا مطالبہ کیا تھا۔سوموار کو بلغاری پراسیکیوٹرز کو پیرس کی ایک عدالت سے ژواچین کی گرفتاری کے لیے جاری کردہ دوسرے یورپی وارنٹ موصول ہوگئے تھے۔
سلاووا کا کہنا ہے کہ ''اس پر ایک ایسے منظم جرائم پیشہ گروپ میں شرکت کا الزام عاید کیا گیا ہے جس کا مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں کو منظم کرنا تھا''۔واضح رہے کہ چارلی ہیبڈو پر حملے کی اب تک کسی جنگجو گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔البتہ یمن میں القاعدہ کی شاخ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پیرس میں اخبار پر حملے کی ہدایت کاری کی تھی۔ کواشی برادران میں سے ایک نے حملے کے بعد کار میں سوار ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ''میڈیا کو بتا دو یہ یمن میں القاعدہ ہے''۔اس حملہ آور نے مبینہ طور پر یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے کیمپوں میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔