Libya Dawn fighters patrol with a vehicle near Sirte March 19, 2015. (Reuters)
لیبیا بحران: یو این مشن نے چھ نکاتی ایجنڈا پیش کردیا
تجاویز اتفاق رائے کے لئے متحارب گروہوں کے سامنے پیش
اقوام متحدہ نے لیبیا میں جاری جارحیت کے خاتمے کے لئے چھ نکاتی ایجنڈا تجویز کیا ہے تاکہ نئے آئین کی تشکیل اور انتخابات کے انعقاد تک ایک عبوری حکومت قائم کی جاسکے۔
اقوام متحدہ کے لیبیا میں سپیشل مشن کے سربراہ اور لیبیا کی حریف پارلیمنٹوں کے درمیان مذاکرات کے ثالث برناردینو لیون نے یہ چھ نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ یو این مشن کے مطابق یہ منصوبہ ایک ایسی بنیاد فراہم کرے گا جس کے ذریعے سے فریقین کسی حل کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
اس منصوبے کو طرابلس اور تبروک میں دو فریقوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ فریقین انہی دونوں شہروں سے متوازن حکومتیں قائم کرکے اپنے زیر انتظام علاقوں میں نظام حکومت چلا رہے ہیں۔
یو این مشن کا کہنا ہے کہ لیبیا میں ملک گیر جھڑپیں اور اندرونی خلفشار میں مزید پھیلائو کا خدشہ ہے۔ اب سلامتی اور استحکام کی بحالی کے لئے معاہدے کا مزید انتظار نہیں کیا جاسکتا ہے تاکہ لوگوں کی مشکلات میں کمی ہوسکے۔
یو این مشن کے ترجمان سامر غطاس کا کہنا ہے "تبروک کا دورہ اچھا رہا۔ ہمارا مقصد یہ پیغام سپیکر تک پہنچانا تھا اور یہ مقصد پورا ہوگیا ہے۔ ہماری وزیر خارجہ محمد الدیری سے ائیرپورٹ پر لمبی بات چیت ہوئی تھی، جو کہ پارلیمنٹ سے رابطے میں رہے ہیں اور انہوں نے مثبت ردعمل دیا ہے۔"
اس منصوبے میں ایک متحدہ حکومت کی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں ایک صدر اور ایک صدارتی کونسل ہوگی جو کہ غیر جانبدار افراد مشتمل ہوگی جبکہ ایک پارلیمنٹ جس میں تمام لیبی شہریوں کی یکساں نمائندگی موجود ہوگی اور اس کے علاوہ ایک ہائی سٹیٹ کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔
اس کے علاوہ ایک نیشنل سیکیورٹی کونسل اور میونسپل کونسل بھی قائم کی جائینگی۔ ایک آئینی ڈرافٹنگ کمیٹی بھی عبوری دورانیے کا حصہ ہوگی۔
مشن کا کہنا تھا کہ "یہ تمام ادارے ایک عبوری دورانیے کے لئے کام کریں گے جس کی مدت پر تمام پارٹیاں اتفاق کریں گی اور یہ عبوری نظام انتخابات کے انعقاد کے بعد ختم ہوجائے گا۔"