ایران نے گذشتہ چار سال سے امیر حکمتی کو جاسوسی کے الزام میں کوئی مقدمہ چلائے بغیر جیل میں بند کررکھا ہے۔
امریکا کا ایران سے سابق میرین امیرحکمتی کی رہائی کا مطالبہ
امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ایران سے ایک سابق امریکی میرین امیر حکمتی کو بلا جواز حراست سے رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایران نے گذشتہ چار سال سے انھیں جاسوسی کے الزام میں کوئی مقدمہ چلائے بغیر جیل میں بند کررکھا ہے۔
جان کیری نے ہفتے کے روز امیر حکمتی کی حراست کے چار سال پورے ہونے پر جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ان پر جاسوسی کے غلط الزامات عاید کیے گئے تھے۔یادرہے کہ سابق امریکی میرین کو ایران میں اپنے عزیزواقارب سے ملنے کے لیے آمد پر حکام نے حراست میں لے لیا تھا۔
جان کیری نے ایرانی حکومت سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امیر کو انسانی بنیاد پر رہا کرے کیونکہ کوئی بھی خاندان یہ نہیں چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس طرح بلاجواز زیرحراست رہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکمتی خاندان نے اس ناانصافی کے خلاف زبردست ضبط وتحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور سابق میرین امیر نے بھی دوران حراست شاندار حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔
جان کیری نے ایران سے دو اور امریکیوں کو بھی رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان میں ایک پادری سعید عابدینی ہیں۔انھیں ایران میں 2012ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور بائبل کی تعلیم کے لیے لوگوں کے ایک گروپ کو اکٹھا کرنے کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
جان کیری نے ایران پر یہ بھی زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے سابق ایجنٹ رابرٹ لیونسن کا اتا پتا معلوم کرنے کے لیے تعاون کرے۔مسٹر رابرٹ سنہ 2007ء میں ایران کے جزیرے کیش میں لاپتا ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ امریکی کانگریس کے بہت سے ارکان اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار واشنگٹن اور عالمی برادری پر یہ زور دیتے رہے تھے کہ انھیں ایران کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے کو حتمی شکل دیتے وقت امریکیوں کی وطن واپسی کی شرط بھی عاید کرنی چاہیے تھی۔